اسلام آباد، 4 مئی — اسلام آباد ہائی کورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے کی لیز منسوخی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے اقدام کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت کے تفصیلی فیصلے کے مطابق منصوبے سے وابستہ اپارٹمنٹس کے خریدار سی ڈی اے کے خلاف ملکیتی حقوق کا دعویٰ نہیں کر سکتے، البتہ وہ اپنے مالی نقصان کے ازالے کے لیے بلڈر یا متعلقہ فریقوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔
عدالتی فیصلے کو اسلام آباد کے اہم ترین جائیداد تنازعات میں سے ایک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مقدمہ کئی برس سے سرکاری اداروں، نجی ڈیولپرز اور خریداروں کے درمیان قانونی کشمکش کا مرکز بنا ہوا تھا، خاص طور پر اس لیے بھی کہ منصوبہ وفاقی دارالحکومت کے نہایت حساس اور اہم علاقے میں واقع ہے۔ رپورٹوں کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار یہ ثابت نہیں کر سکے کہ سی ڈی اے نے لیز ختم کرتے وقت غیر قانونی یا اختیارات سے تجاوز کا مظاہرہ کیا۔
اس فیصلے کا سب سے بڑا اثر ان افراد پر پڑے گا جنہوں نے اس منصوبے میں اپارٹمنٹس خرید رکھے ہیں۔ عدالت کی آبزرویشنز سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خریداروں کے نجی معاہدے اپنی جگہ، مگر جب بنیادی لیز ہی منسوخ ہو چکی ہو تو سی ڈی اے کے خلاف ملکیت کا حق قائم نہیں ہوتا۔ یہی نکتہ اس مقدمے کو عام کمرشل تنازعے سے کہیں زیادہ سنگین بنا دیتا ہے، کیونکہ یہاں معاملہ صرف زمین یا تعمیراتی قواعد کا نہیں بلکہ لوگوں کی سرمایہ کاری اور رہائش سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پس منظر میں یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ منصوبے سے متعلق ادائیگیوں میں طویل تاخیر اور لیز کی شرائط کی خلاف ورزیاں سی ڈی اے کے اقدام کی بنیادی وجہ تھیں۔ اسی بنیاد پر اتھارٹی نے لیز منسوخ کی، جسے اب عدالت نے بھی درست قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے سے سی ڈی اے کے مؤقف کو قانونی تقویت ملی ہے اور یہ پیغام بھی گیا ہے کہ ہائی پروفائل منصوبے بھی ریگولیٹری ذمہ داریوں سے بالاتر نہیں۔
عدالتی فیصلے کے بعد انتظامی سطح پر بھی فوری ردعمل دیکھنے میں آیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق حکام نے عمارت خالی کرانے کے لیے کارروائی شروع کی، جس سے رہائشیوں اور سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا ہوئی۔ بعد ازاں وفاقی حکومت نے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی اور انتظامی کارروائی کو عارضی طور پر روکنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالتی فیصلہ اپنی جگہ برقرار ہے، لیکن اس کے عملی اور انتظامی اثرات پر ابھی مزید پیش رفت ہو سکتی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف اسلام آباد کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کے لیے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے بلکہ خریداروں کے لیے بھی ایک سخت تنبیہ ہے کہ بڑے اور پرکشش منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے وقت قانونی حیثیت، لیز کی شرائط اور ریگولیٹری منظوریوں کی مکمل جانچ ناگزیر ہے۔ بظاہر یہ مقدمہ اب صرف ایک منصوبے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے پاکستان میں شہری منصوبہ بندی، ریگولیشن اور خریداروں کے تحفظ سے متعلق بڑے سوالات دوبارہ زندہ کر دیے ہیں۔
