اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے لاجسٹک رکاوٹیں کم ہونے کے بعد اپنے آپریشنز معمول پر لانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ کمپنی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو 23 اپریل کی اطلاع میں بتایا کہ خام تیل کی وصولی اور تیار شدہ مصنوعات کی ترسیل، جو آئل ٹینکروں کے ذریعے ہوتی ہے، متعلقہ حکام کی مداخلت کے بعد دوبارہ معمول کی طرف آنا شروع ہو گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق چند دنوں میں آپریشنز مکمل طور پر بحال ہونے کی توقع ہے۔
اس سے ایک دن پہلے، 22 اپریل کو، اٹک ریفائنری نے ایک علیحدہ اعلامیے میں کہا تھا کہ اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی متوقع آمد کے باعث آئل ٹینکروں کی آمد و رفت اچانک معطل ہو گئی تھی۔ اس صورت حال نے ایک طرف خام تیل کی سپلائی متاثر کی، جبکہ دوسری طرف موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ذخائر بڑھنے لگے کیونکہ مصنوعات کی ترسیل رک گئی تھی۔ انہی حالات میں کمپنی نے اپنا مرکزی HBU-I خام تیل کشیدگی یونٹ بند کر دیا، جس کی پیداواری صلاحیت 32,400 بیرل یومیہ ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ اٹک ریفائنری شمالی پاکستان کی ایندھن سپلائی چین میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ اس نوعیت کی رکاوٹ، چاہے مختصر ہی کیوں نہ ہو، مارکیٹ میں فوری تشویش پیدا کرتی ہے کیونکہ خام تیل کی وصولی اور ریفائن شدہ مصنوعات کی ترسیل دونوں بڑی حد تک سڑکوں کے ذریعے ہوتی ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کی مداخلت کے بعد بدھ کی رات ٹینکروں کی نقل و حرکت بحال ہوئی، جس سے فوری سپلائی دباؤ میں کمی آئی۔
اس واقعے سے ایک بڑی حقیقت بھی سامنے آتی ہے: پاکستان میں ریفائنری آپریشن صرف تکنیکی خرابیوں یا عالمی تیل قیمتوں سے ہی متاثر نہیں ہوتے، بلکہ سکیورٹی انتظامات، ٹریفک کنٹرول اور زمینی لاجسٹکس بھی ان پر براہ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔ اٹک ریفائنری کے معاملے میں کمپنی کے اپنے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ تکنیکی نہیں بلکہ نقل و حمل سے جڑا ہوا تھا، اور جیسے ہی یہ دباؤ کم ہوا، بحالی کا عمل بھی شروع ہو گیا۔
فی الحال کمپنی کا مؤقف واضح ہے: خام تیل کی آمد اور مصنوعات کی ترسیل بہتر ہو رہی ہے، اور آپریشنز جلد مکمل طور پر معمول پر آ جائیں گے۔ اب مارکیٹ کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ آیا یہ بحالی کمپنی کے اندازے کے مطابق آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو جاتی ہے یا نہیں۔
