پاکستان کی تجارتی پالیسی میں اب یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ گدھوں کی کھالوں کی برآمد صرف گوادر فری زون میں قائم نامزد، منظور شدہ یا رجسٹرڈ گدھا سلاٹر ہاؤسز سے کی جا سکتی ہے۔ البتہ جو سرکاری نوٹیفکیشن دستیاب ہے، اس میں گدھے کے گوشت کی برآمد کے لیے اسی طرح کی کھلی اور براہِ راست عبارت نظر نہیں آتی جس طرح بعض خبروں کے عنوان میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے اس خبر میں اصل فرق یہی ہے: سرکاری متن کھالوں پر صاف ہے، گوشت پر نہیں۔
اس معاملے کی بنیاد وزارتِ تجارت کے 2 اکتوبر 2025 کے نوٹیفکیشن میں ہے، جس کے تحت ایکسپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم کی گئی۔ اس میں کہا گیا کہ donkey hides کی برآمد صرف انہی کمپنیوں یا فرموں کو اجازت ہوگی جو گوادر فری زون میں قائم منظور شدہ سلاٹر ہاؤسز میں کام کر رہی ہوں۔ اسی ترمیم کے ذریعے گدھوں کی کھالوں کو ممنوعہ برآمدات کی فہرست سے بھی نکال دیا گیا۔
یہ تبدیلی دراصل ایک پرانی پابندی کے الٹ قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق 2015 میں ای سی سی نے گدھوں کی کھالوں کی برآمد پر پابندی لگائی تھی، کیونکہ اس وقت یہ خدشات سامنے آئے تھے کہ بعض شہروں میں گدھے کا گوشت بیف اور مٹن کے نام پر فروخت ہو رہا ہے، اور غیر قانونی ذبح کے مسائل بھی موجود تھے۔ تازہ پالیسی کو اسی پابندی کے خاتمے کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں خبر کو احتیاط سے لکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ عوامی ریکارڈ میں موجود مضبوط اور براہِ راست ثبوت گدھوں کی کھالوں کی مشروط برآمد کا ہے۔ کچھ ثانوی رپورٹنگ میں گوادر میں ایسے سلاٹر ہاؤس کے آپریشنل ماڈل کا ذکر ملتا ہے جہاں گوشت اور کھال دونوں کا حوالہ آتا ہے، مگر یہ بات اس سرکاری نوٹیفکیشن میں اسی صراحت سے درج نہیں جو اصل پالیسی تبدیلی کی بنیاد ہے۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ حکومت نے گوادر کے ذریعے کھالوں کی برآمد کا باقاعدہ راستہ کھولا ہے، جبکہ “گوشت اور کھالوں” والی سرخی کو اسی احتیاط کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
پالیسی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ اجازت ملک بھر کے لیے نہیں دی گئی، بلکہ اسے صرف گوادر فری زون تک محدود رکھا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس تجارت کو کھلا چھوڑنے کے بجائے ایک محدود، نگرانی کے قابل اور نسبتاً قابو میں رہنے والے فریم ورک میں رکھنا چاہتی ہے۔ یہی تاثر مختلف خبروں میں بھی ملتا ہے، جہاں اس فیصلے کو سخت شرائط کے ساتھ دیا گیا ریگولیٹڈ ایکسپورٹ چینل قرار دیا گیا۔
سادہ لفظوں میں بات کریں تو سب سے محفوظ اور درست خلاصہ یہ بنتا ہے: پاکستان نے گوادر فری زون کے منظور شدہ سلاٹر ہاؤسز سے گدھوں کی کھالوں کی برآمد کی مشروط اجازت دے دی ہے، جو 2015 کی پابندی کے خاتمے کے مترادف ہے۔ لیکن گدھے کے گوشت کی برآمد سے متعلق وہی سطح کی واضح سرکاری عبارت، جو اس خبر کے عنوان میں جھلکتی ہے، موجودہ عوامی دستاویز میں نظر نہیں آتی۔
