ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، پاکستان۔ایران تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے عراقچی کے دورے سے پہلے کہا تھا کہ ان کی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ خطے کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی، جبکہ تازہ بین الاقوامی رپورٹنگ کے مطابق عاصم منیر سے ملاقات میں سکیورٹی امور کو خاص اہمیت دی گئی۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب اسلام آباد خود کو ایران اور امریکہ کے درمیان رابطہ کار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران نے اس دورے کے دوران امریکی نمائندوں سے براہِ راست بات چیت سے انکار کیا، تاہم پاکستان کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کا امکان برقرار رکھا گیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد کا مقصد وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کرنا تھا، اور ان مشاورتوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان۔ایران تعلقات شامل تھے۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یہ دورہ محض رسمی نہیں بلکہ ایک وسیع سفارتی کوشش کا حصہ تھا۔ یہ آخری نکتہ دستیاب اطلاعات سے اخذ کیا گیا ہے۔
عاصم منیر اور عراقچی کی ملاقات کو پاکستان۔ایران سکیورٹی رابطوں کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایک میزبان کے طور پر سامنے آیا، اور پاکستانی حکام نے خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر زور دیا۔ اسی تناظر میں یہ ملاقات معمول کی سفارتی مصروفیت سے بڑھ کر دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان کے لیے اس ملاقات کی اہمیت صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اسلام آباد خطے کے ایک نازک مرحلے میں خود کو ایسا فریق دکھانا چاہتا ہے جو تہران، واشنگٹن اور دوسرے علاقائی دارالحکومتوں سے بیک وقت بات کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خبر کو محض ایک ملاقات نہیں بلکہ سفارت کاری، سلامتی اور علاقائی بحران کے سنگم پر ہونے والی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
