پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مالی نظم و ضبط سے متعلق ایک اہم قدم پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت سرکاری محکموں کے درجنوں بینک اکاؤنٹس بند کرکے ان میں موجود رقوم ٹریژری سنگل اکاؤنٹ یعنی واحد سرکاری خزانہ اکاؤنٹ میں منتقل کی جائیں گی۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق پہلے مرحلے میں قریب 70 سرکاری اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے اور تقریباً 300 ارب روپے قومی خزانے کے مرکزی نظام میں ڈالے جائیں گے۔
یہ معاملہ محض اکاؤنٹس بند کرنے تک محدود نہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ حکومت کے مختلف اداروں میں بکھری ہوئی نقد رقوم ایک مرکزی نظام کے تحت آجائیں تاکہ سرکاری نقدی کے انتظام میں بہتری آئے، غیر ضروری قرض لینے کی ضرورت کم پڑے، اور یہ واضح رہے کہ ریاست کے پاس حقیقت میں کتنی نقدی موجود ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے بارے میں اپنے 2024 کے تجزیاتی مواد میں بھی نشاندہی کی تھی کہ ٹریژری سنگل اکاؤنٹ سے باہر بڑی غیر فعال رقوم پڑی ہیں، جو شفافیت اور مؤثر مالی انتظام دونوں کو کمزور کرتی ہیں۔
اس پیش رفت کا تعلق پاکستان کے موجودہ عالمی مالیاتی فنڈ پروگرام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے 27 مارچ 2026 کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ 37 ماہہ توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہو گیا ہے، جو ایگزیکٹو بورڈ یعنی مجلسِ انتظامیہ کی منظوری سے مشروط ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹریژری سنگل اکاؤنٹ جیسے اقدامات اب صرف تکنیکی اصلاحات نہیں رہے، بلکہ وہ پاکستان کی مجموعی مالیاتی ساکھ اور پروگرام کی پیش رفت کا حصہ بن چکے ہیں۔
مقامی رپورٹ کے مطابق اس مرحلے میں ترجیح ایسے بلا منافع اکاؤنٹس کو دی جا رہی ہے جو وزارتوں اور ان سے منسلک محکموں کے زیرِ استعمال ہیں۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلے بھی 242 اکاؤنٹس منتقل کیے جا چکے ہیں جن میں قریب 200 ارب روپے موجود تھے، جبکہ آئندہ مراحل میں مزید رقوم مرکزی خزانے میں لائی جا سکتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، حکومت اب بکھری ہوئی سرکاری نقدی کو آہستہ آہستہ ایک جگہ سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس اصلاح کی منطق کافی سیدھی ہے۔ جب سرکاری اداروں کے پاس رقوم مختلف تجارتی بینکوں میں پڑی رہیں اور دوسری طرف حکومت اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لے، تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست اپنی ہی دستیاب نقدی کا مؤثر استعمال نہیں کر رہی۔ ٹریژری سنگل اکاؤنٹ اسی خلا کو بند کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے قرض کے اخراجات میں کمی، روزمرہ نقدی منصوبہ بندی میں بہتری، اور وفاقی مالی نظام پر زیادہ کنٹرول ممکن ہوتا ہے۔
البتہ اس عمل میں مزاحمت کا امکان بھی موجود ہے۔ بعض خودمختار ادارے اور ضابطہ کار ادارے یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہیں کہ اگر وہ وفاقی بجٹ سے اخراجات نہیں لیتیں، تو ان کی رقوم کو لازماً مرکزی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کیا جانا چاہیے، خاص طور پر اگر وہ منافع بخش یا سودی اکاؤنٹس میں رکھی گئی ہوں۔ اسی لیے اندازہ یہی ہے کہ حکومت یہ اصلاح ایک ہی جھٹکے میں نہیں بلکہ مرحلہ وار نافذ کرے گی۔
وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ قدم پاکستان پر عالمی مالیاتی فنڈ کے اس مسلسل دباؤ کا حصہ ہے جس کا مقصد مالیاتی ڈھانچے کو زیادہ شفاف، منظم اور کم سیاسی بنانا ہے۔ 2024 کے سرکاری ضوابط اور اس کے بعد کی رپورٹنگ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نقدی نظم و نسق اور ٹریژری سنگل اکاؤنٹ قواعد 2024 جیسے اقدامات بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی معاونت اور دباؤ دونوں کے تحت آگے بڑھے۔ اس بار فرق شاید یہ ہے کہ حکومت پر عملدرآمد دکھانے کا دباؤ پہلے سے زیادہ ہے۔
مختصراً، عالمی مالیاتی فنڈ کا مطالبہ پاکستان کے لیے ایک اور کڑی شرط نہیں بلکہ مالی نظم و ضبط کے ایک پرانے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہے: سرکاری پیسہ کہاں پڑا ہے، کس کے پاس ہے، اور حکومت اسے ایک متحد نظام کے تحت کیوں نہیں چلا پا رہی؟ اگر اسلام آباد واقعی ان اکاؤنٹس کو بند کرکے رقوم کو مرکزی خزانے میں لے آتا ہے، تو یہ قدم علامتی سے زیادہ عملی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اصل امتحان حسبِ معمول اعلان نہیں، عملدرآمد ہوگا۔
