وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 کے فائنل میں تماشائیوں کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ فرنچائز مالکان کی جانب سے دباؤ کے بعد کیا گیا، جن کا مؤقف تھا کہ بغیر شائقین کے ٹورنامنٹ کا جوش و خروش ماند پڑ جاتا ہے۔
وزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے گزشتہ رات اس فیصلے کی تصدیق کی۔ انہوں نے اس اقدام کو وزیراعظم کی جانب سے ایک "فیاضانہ” فیصلہ قرار دیا، جو پہلے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شائقین کی موجودگی کے حق میں نہیں تھے۔
یہ فیصلہ ان سخت سیکیورٹی پروٹوکولز سے ہٹ کر ہے جن کی وجہ سے خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ فائنل صرف ٹیلی ویژن تک محدود رہ جائے گا۔ فرنچائز مالکان کے لیے یہ معاملہ صرف رونق کا نہیں، بلکہ مالیاتی بقا کا بھی تھا۔ ٹکٹوں کی فروخت اور اسٹیڈیم میں موجود ہجوم پی ایس ایل کی برانڈ ویلیو کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
محسن نقوی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "وزیراعظم نے شائقین کی اہمیت کو سمجھا ہے۔ انہوں نے فرنچائز مالکان کی درخواست کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے فائنل میں عوامی شرکت کی منظوری دے دی ہے۔”
دروازے تو کھل گئے ہیں، لیکن انتظامیہ کے لیے اب لاجسٹک چیلنجز کا پہاڑ کھڑا ہے۔ سیکیورٹی ادارے اب آخری لمحات میں حفاظتی حصار کے ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جو وزارت داخلہ کے معیار پر بھی پورا اترے اور ہزاروں شائقین کی آمد کو بھی ممکن بنا سکے۔ پی سی بی کی جانب سے اگلے 24 گھنٹوں میں ٹکٹوں کی تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس کے لیے ممکنہ طور پر ڈیجیٹل پورٹل کا استعمال کیا جائے گا۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ عوامی شرکت کے معاملے پر یہ یو-ٹرن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک میں بڑے ایونٹس کی منصوبہ بندی میں سیکیورٹی اور تجارتی تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں کتنی مشکلات پیش آتی ہیں۔
کرکٹ کے دیوانوں کے لیے یہ خبر کسی بڑی جیت سے کم نہیں۔ ان کے لیے اب فائنل کا راستہ صاف ہو چکا ہے۔ تاہم، کیا اسٹیڈیم کا انفراسٹرکچر سیکیورٹی کی ان اچانک تبدیل شدہ ضروریات کو سنبھال پائے گا؟ اس کا جواب میچ کے دن ہی ملے گا۔
