کراچی: سندھ حکام نے مبینہ لیاری گینگ سے وابستہ شخصیت وسیع اللہ لاکھو کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواست کر دی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بیرونِ ملک سے چلنے والے بھتہ خوری کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق کیس کو انٹرپول درخواست کے لیے درکار طریقۂ کار کے تحت وفاقی حکومت کے ذریعے آگے بھجوا دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت کراچی میں تاجروں اور کاروباری افراد کو موصول ہونے والی بھتہ خوری کی دھمکیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آئی ہے۔ پولیس اور سندھ حکومت کے حکام کے مطابق لاکھو اُن اہم افراد میں شامل ہے جسے مبینہ طور پر لیاری سے جڑی منظم جرائم کی سرگرمیوں اور بیرونِ ملک آپریشنز سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
اس سے قبل رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے لاکھو کے خلاف ریڈ نوٹس کے اجرا کے لیے انٹرپول سے رجوع کرنے کی درخواست کی تھی۔ حالیہ مقامی رپورٹس کے مطابق درخواست اور متعلقہ دستاویزات پہلے ہی بھجوا دی گئی ہیں، تاہم انٹرپول کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
انٹرپول کے قواعد کے مطابق، ریڈ نوٹس دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب شخص کی تلاش اور عارضی گرفتاری کے لیے جاری کیا جانے والا نوٹس ہوتا ہے، تاکہ حوالگی یا دیگر قانونی کارروائی کی جا سکے۔ تاہم یہ بذاتِ خود کوئی بین الاقوامی وارنٹِ گرفتاری نہیں ہوتا، اور بہت سے ریڈ نوٹس انٹرپول کی ویب سائٹ پر عوامی طور پر ظاہر نہیں کیے جاتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے وسیع اللہ لاکھو کے خلاف ریڈ نوٹس کے لیے درخواست دی ہے یا اسے آگے بڑھایا ہے، تاہم اس کے اجرا کے حوالے سے انٹرپول کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
