پشاور — خیبرپختونخوا اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 2.17 کھرب روپے کا بجٹ منظور کر لیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور آفریدی نے صوبے بھر میں امن، ترقی اور عوامی فلاح کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
بجٹ کی منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے، معاشی ترقی کو فروغ دینے اور عوامی خدمات کے معیار کو بلند کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
نئے منظور شدہ بجٹ میں تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سماجی بہبود کے پروگراموں اور عوامی تحفظ کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق یہ مالی منصوبہ صوبے کو درپیش اہم چیلنجز سے نمٹنے اور شہری و دیہی دونوں علاقوں میں ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بجٹ کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جن میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع، صاف پانی کی فراہمی کی اسکیمیں، اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور صحت کی سہولیات میں بہتری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے عوامی خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی اور طویل المدتی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے مالی سال میں امن اور استحکام کا قیام حکومت کی سب سے بڑی ترجیح رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سکیورٹی صورتحال معاشی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کی کامیاب تکمیل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے بعض بجٹ تخمینوں اور اخراجاتی ترجیحات پر تحفظات کا اظہار کیا۔ کچھ قانون سازوں نے محصولات کے تخمینوں پر سوال اٹھاتے ہوئے سرکاری فنڈز کے استعمال میں زیادہ شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
تاہم حکومتی نمائندوں نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک متوازن مالی منصوبہ قرار دیا جو عوامی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی حمایت بھی کرتا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مجوزہ اخراجات خیبرپختونخوا کے عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
معاشی ماہرین کے مطابق 2.17 کھرب روپے کا یہ بجٹ مالی مشکلات کے باوجود صوبے کے ترقیاتی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اہداف کے حصول کے لیے منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد اور وسائل کا بہتر انتظام انتہائی اہم ہوگا۔
بجٹ کی منظوری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کو مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور عوامی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب جیسے وسیع معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ صوبائی قیادت کو امید ہے کہ ہدفی سرمایہ کاری اور بہتر طرزِ حکمرانی کے ذریعے استحکام اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔
جیسے ہی نیا مالی سال شروع ہونے جا رہا ہے، عوامی توجہ اس بات پر مرکوز رہے گی کہ حکومت امن، ترقی اور بہتر عوامی خدمات سے متعلق اپنے وعدوں کو کس حد تک پورا کرتی ہے۔ بجٹ کی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ منصوبوں پر کس قدر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا جاتا ہے اور وہ خیبرپختونخوا کے عوام کو کس حد تک حقیقی فوائد پہنچاتے ہیں۔
