تہران اور مسقط نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ایک نئے سمندری معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کئی ماہ سے جاری خاموش سفارت کاری کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
ایران کی وزارتِ سڑک و شہری ترقی کے مطابق، اس معاہدے کے تحت جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے ایک مشترکہ رابطہ کاری کا نظام اور تلاش و بچاؤ کا فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ اگرچہ تکنیکی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اُن پانیوں میں "غیر ارادی تصادم” روکنے کے لیے ناگزیر تھا جہاں ایرانی بحریہ اور مغربی ٹینکرز کا آمنا سامنا رہتا ہے۔
عالمی توانائی کی منڈی کے لیے اس خبر کی اہمیت واضح ہے۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اسی تنگ گزرگاہ سے ہو کر جاتا ہے۔ یہاں معمولی سا خلل بھی عالمی سطح پر بیمہ کی قیمتوں میں اضافے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بنتا ہے۔ عمان، جو تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے، اس معاہدے میں بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے۔ اس اقدام سے ایران اپنی برآمدات کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ سمندری راستوں پر ایک پیش گوئی کے قابل رویہ اختیار کرنے کو تیار ہے۔
دبئی میں مقیم ایک سمندری امور کے تجزیہ کار کے مطابق، "یہ معاملہ صرف قواعد و ضوابط کا نہیں بلکہ اعتماد سازی کا ہے۔ ایران اپنی گرفت کمزور نہیں کر رہا، بلکہ وہ سمندری حدود کے لیے ایک باقاعدہ ضابطہ اخلاق بنا رہا ہے۔ جب ایران اور عمان کے کوسٹ گارڈز کے درمیان براہِ راست رابطہ ہوگا، تو کسی بھی چھوٹے واقعے کے بڑے تنازع میں بدلنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔”
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی پابندیوں اور خلیج فارس میں غیر ملکی جنگی جہازوں کی موجودگی کی وجہ سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ عمان کی شمولیت ایران کو وہ سفارتی جواز فراہم کرتی ہے جو اسے عالمی سطح پر کم ہی میسر ہوتا ہے۔
دوسری جانب، واشنگٹن نے تاحال اس پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔ تاہم، بحری سکیورٹی کے ماہرین کا خیال ہے کہ بحرین میں موجود امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑہ اسے شکوک کی نظر سے دیکھے گا۔ پینٹاگون روایتی طور پر آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو ایک بین الاقوامی مسئلہ سمجھتا ہے اور ایسے دو طرفہ معاہدوں کو تشویش سے دیکھتا ہے جن میں مغربی ممالک کا عمل دخل نہ ہو۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ عملی طور پر سمندر میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا یا نہیں۔ شپنگ کمپنیاں اس بات کا انتظار کر رہی ہیں کہ آیا اس معاہدے کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے جہازوں کی تلاشی اور نگرانی کے عمل میں کوئی تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔ جب تک مشترکہ گشت کا آغاز نہیں ہوتا یا کسی ہنگامی صورتحال میں اس معاہدے کا امتحان نہیں لیا جاتا، تب تک عالمی جہاز رانی کا شعبہ محتاط رویہ اپنائے رکھے گا۔ فی الحال، یہ معاہدہ خطے میں تعاون کی ایک نایاب مثال ہے، جس کا مقصد اس پرہجوم سمندری راستے پر تیل کی ترسیل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے۔
