ادارہ نورِ حق کی عمارت میں واقع پلاٹ نمبر 503 اور 504 کی خرید و فروخت کی دستاویزات (سیل ڈیڈز) اے آر وائی نیوز نے حاصل کر لی ہیں۔ ان دستاویزات کے سامنے آنے سے عمارت کی ملکیت سے جڑے کئی سوالات نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور جائیداد کی قانونی حیثیت پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔
دستاویزات سے ان پلاٹس کی منتقلی اور رجسٹریشن کے عمل کی تصدیق ہوتی ہے۔ کراچی میں واقع یہ عمارت برسوں سے سیاسی جماعتوں اور میونسپل حکام کے درمیان تناؤ کا مرکز رہی ہے۔ اب جب کہ سیل ڈیڈز منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جائیداد پر ملکیت کے دعووں کو قانونی کسوٹی پر پرکھنا پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
ادارہ نورِ حق طویل عرصے تک متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا مرکزی مرکز رہا ہے، جو اکثر قانونی چارہ جوئی اور انتظامی تنازعات کی زد میں رہا ہے۔ ماضی میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے زمین کے قبضے یا اسے دوبارہ استعمال میں لانے کی کوششیں اکثر متضاد دستاویزات کے باعث تعطل کا شکار ہوتی رہی ہیں۔ یہ نئی دستاویزات لین دین کی تاریخ کو واضح کرتی ہیں، جس سے عدالتوں میں جاری مقدمات کی نوعیت بدل سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کاغذات شہر میں میونسپل جائیدادوں کے تنازعات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے۔ اگر عدالت ان دستاویزات کو درست تسلیم کر لیتی ہے، تو یہ اس بیانیے کو کمزور کر دیں گی جس میں عمارت کو ‘غیر قانونی قبضہ’ قرار دیا جاتا رہا ہے۔
دستاویزات میں ان دو پلاٹس کی حدود اور ملکیتی تاریخ کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ اس میں ان افراد کے نام بھی شامل ہیں جو اصل لین دین میں ملوث تھے—ایسے نام جو اب تک سرکاری بریفنگز سے غائب تھے۔
شہری انتظامیہ نے تاحال ان سیل ڈیڈز کی تصدیق یا تردید میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ میونسپل آفس کی خاموشی قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی ہے، جبکہ اصل دستاویزات اب تنازع کے مرکز میں ہیں۔
اب جب کہ قانونی ٹیمیں ان سیل ڈیڈز کا موازنہ میونسپل لینڈ ریکارڈز سے کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ دستاویزات عدالتوں کو مطمئن کر پائیں گی یا عمارت کے پورے ماسٹر پلان کی مزید تحقیقات کا راستہ کھولیں گی۔ یہ انکشاف اب کاغذات کے ریکارڈ اور عمارت پر قابض دھڑوں کے سیاسی بیانیے کو براہِ راست ٹکراؤ کی کیفیت میں لے آیا ہے۔
