کاٹھمنڈو کی روشنیاں بجھنے سے بچ گئیں۔ نیپال میں حالیہ تباہ کن مون سون سیلاب کے باعث ہائیڈرو پاور منصوبوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کے بعد، بھارت نے نیپال کو اضافی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ ماہ کے آخر میں آنے والے سیلاب نے نیپال کے کئی اہم بجلی گھروں کو ہنگامی بنیادوں پر بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مقامی پیداوار میں اچانک کمی کے بعد نیپال کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا تھا، جس سے صنعتی مراکز اور گھریلو صارفین دونوں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
نئی دہلی کی جانب سے سرحد پار ٹرانسمیشن نیٹ ورک کے ذریعے بجلی کی فراہمی میں اضافہ محض ایک تکنیکی اقدام نہیں، بلکہ یہ نیپال کی معیشت کو مستحکم رکھنے کی ایک کوشش ہے جو اس وقت برسوں کی بدترین تباہی سے نبردآزما ہے۔
بھارتی وزارتِ بجلی کے ایک ترجمان نے منگل کو کہا کہ "ہم اس بحران کے دوران نیپال کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔” اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے بعد طے پانے والے اس معاہدے کے تحت نیپال اب بھارتی گرڈ سے رعایتی نرخوں پر اضافی میگاواٹ حاصل کر سکے گا۔
نیپال کے لیے صورتحال انتہائی نازک ہے۔ ہائیڈرو پاور نہ صرف ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے بلکہ برآمدی آمدنی کا بڑا ذریعہ بھی ہے۔ سیلاب سے ٹربائنوں میں مٹی بھر جانے اور لینڈ سلائیڈنگ سے ٹرانسمیشن لائنیں ٹوٹنے کے بعد کاٹھمنڈو حکومت بجلی کے طویل تعطل کو روکنے کے لیے کوشاں تھی۔ اب بھارتی بجلی اس وقت تک ایک سہارے کا کام کرے گی جب تک مقامی انجینئر ملبہ ہٹا کر پیداواری صلاحیت بحال نہیں کر لیتے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہو۔ گزشتہ چند برسوں میں، دونوں ممالک کے درمیان بجلی کی تجارت ایک سادہ معاہدے سے نکل کر ایک مربوط مارکیٹ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بھارت عام طور پر برسات کے موسم میں نیپال کی اضافی بجلی خریدتا ہے، جبکہ سردیوں میں نیپال بھارت سے درآمد کرتا ہے۔
تاہم، موجودہ بجلی کی فراہمی ایک ہنگامی اقدام ہے، معمول کی تجارت نہیں۔ انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان اتنا وسیع ہے کہ نیپال کو آنے والے کئی ماہ تک بھارتی بجلی پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
جیسے جیسے سیلابی پانی اتر رہا ہے، اب توجہ بحالی کے مشکل کام پر مرکوز ہے۔ فی الحال فوری بحران تو ٹل گیا ہے، لیکن نیپال کا ہائیڈرو پاور پر ضرورت سے زیادہ انحصار کاٹھمنڈو کے منصوبہ سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
