اوگرا نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد مہنگائی کی چکی میں پسے عوام پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث یہ اضافہ ناگزیر تھا۔ تاہم، اس فیصلے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا براہِ راست اثر مال بردار گاڑیوں پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر بنیادی اشیاء کی نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے۔
معاشی ماہرین اس اضافے کو پہلے سے کمزور معیشت کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا قرار دے رہے ہیں۔ صنعت کاروں کا موقف ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ پیداواری لاگت کو ناقابلِ برداشت بنا رہا ہے، جس سے مقامی صنعتوں کی مسابقت ختم ہو رہی ہے۔ فیکٹری مالکان کے مطابق، توانائی کے اخراجات میں اضافے کے بعد اب پیداوار میں کمی کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
سرکاری حلقوں کا اصرار ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے اہداف پورے کرنے کے لیے قیمتوں میں ردوبدل ضروری تھا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری کے لیے قیمتوں کو عالمی منڈی سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے، بصورتِ دیگر قومی خزانے پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔
عوام کے لیے یہ اضافہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ماہانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہے۔ پیٹرول پمپس پر قیمتیں بڑھتے ہی ٹرانسپورٹرز نے بھی کرایوں میں اضافے کی دھمکی دے دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے، کیونکہ عام آدمی کی قوتِ خرید پہلے ہی جواب دے چکی ہے۔
