بیجنگ — نینو ٹیکنالوجی اور آپٹیکل کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک انقلابی پیشرفت کے تحت چین کی پیکنگ یونیورسٹی اور ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کامیابی کے ساتھ روشنی کی ایک شعاع کو سلیکون فوٹونک کرسٹل مائیکرو کیویٹی کے اندر تین مستحکم حالتیں (Tristability) ظاہر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ محض 20 مائیکرو میٹر قطر پر مشتمل یہ ڈیوائس انسانی بال سے بھی زیادہ باریک ہے۔ روایتی کمپیوٹرز کی بائنری (صرف آن اور آف) حالتوں سے آگے بڑھ کر روشنی کو تیسری حالت میں برقرار رکھنا فوٹونک کمپیوٹنگ کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم ترین سنگِ میل مانا جا رہا ہے۔ اس میکانزم کی مدد سے محققین نے ملٹی ویلیو آپٹیکل میموری ڈیوائس کا ایک پروٹوٹائپ (ابتدائی نمونہ) بھی تیار کر لیا ہے جو صرف 240 مائیکرو واٹ پاور پر کام کرتا ہے، جو کہ ایک عام لیزر پوائنٹر سے بھی کم بجلی کا استعمال ہے۔
مائیکرو اور نینو اسکیل چپس پر روشنی کے غیر خطی (Non-linear) اثرات کا انتہائی کمزور ہونا اب تک سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، جس کی وجہ سے روشنی کو متعدد حالتوں میں روکنا ناممکن لگتا تھا۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے چینی ماہرین نے "near-exceptional-point coupling” نامی فزکس میکانزم کا استعمال کیا۔ انہوں نے مائیکرو کیویٹی میں دو گونجنے والے موڈز ڈیزائن کیے، جو ایک خاص پوزیشن پر آکر آپس میں مضبوطی سے جڑ جاتے ہیں۔ اس طریقے سے ڈیوائس نے ‘ون ملین’ (دس لاکھ) کا کوالٹی فیکٹر حاصل کیا، جس سے روشنی ضائع ہوئے بغیر اندر ہی گردش کرتی رہتی ہے۔ معروف سائنسی جریدے ‘نیچر نینو ٹیکنالوجی’ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق مستقبل میں آپٹیکل نیورل نیٹ ورکس اور جدید ترین نیورومورفک کمپیوٹنگ پروسیسرز کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
