واشنگٹن — اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2026 کی سیاست میں اپنی معاشی کارکردگی کو سب سے بڑا سیاسی ہتھیار بنانا چاہتے ہیں، تو ان کے پاس کچھ مضبوط اعداد و شمار ضرور موجود ہیں۔ امریکی معیشت نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 2.0 فیصد سالانہ رفتار سے ترقی کی، جو 2025 کی آخری سہ ماہی کے 0.5 فیصد کے مقابلے میں واضح بہتری ہے۔ روزگار بھی مکمل طور پر نہیں ٹوٹا؛ مارچ میں 1 لاکھ 78 ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوئیں، جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.3 فیصد رہی۔ کاغذ پر دیکھا جائے تو یہ بحران زدہ معیشت نہیں۔
مگر سیاست میں صرف یہی کافی نہیں ہوتا۔ ووٹر اکثر جی ڈی پی کی رفتار نہیں، بلکہ اپنی جیب کا حال دیکھتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ٹرمپ کو مشکل پیش آ سکتی ہے۔ مارچ 2026 میں صارف قیمت اشاریہ، یعنی سی پی آئی، ایک سال پہلے کے مقابلے میں 3.3 فیصد بڑھا، جبکہ صرف ایک مہینے میں اس میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے میں توانائی کی قیمتوں نے خاص کردار ادا کیا، اور پٹرول کی قیمتوں میں مارچ کے دوران تیز چھلانگ دیکھی گئی۔ یہ وہ چیز ہے جو ووٹر روزانہ محسوس کرتے ہیں، چاہے سرکاری اعداد و شمار مجموعی معیشت کو نسبتاً بہتر ہی کیوں نہ دکھا رہے ہوں۔
یہی تضاد اس وقت امریکی معیشت کی اصل کہانی ہے۔ ایک طرف ترقی کی رفتار پچھلے سہ ماہی کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے، دوسری طرف بی ای اے کے مطابق پہلی سہ ماہی کی بہتری کے باوجود صارفین کے اخراجات کی رفتار کچھ سست پڑی، جبکہ سرمایہ کاری، برآمدات اور حکومتی اخراجات نے نمو کو سہارا دیا۔ مطلب یہ کہ معیشت چل رہی ہے، لیکن وہ اعتماد سے نہیں دوڑ رہی جسے سیاسی طور پر آسانی سے بیچا جا سکے۔
روزگار کے اعداد و شمار ٹرمپ کے لیے نسبتاً بہتر خبر ہیں۔ مارچ میں نوکریوں میں اضافہ صحت، تعمیرات، اور ٹرانسپورٹ و گودام کے شعبوں میں ہوا، جبکہ وفاقی حکومت میں ملازمتوں کی تعداد کم ہوتی رہی۔ یہ تصویر بتاتی ہے کہ لیبر مارکیٹ ابھی تک دباؤ میں آ کر بکھری نہیں، اور یہی وہ نکتہ ہے جسے ٹرمپ اور ان کی ٹیم سیاسی بیانیے میں نمایاں کرنے کی کوشش کریں گے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ ووٹر صرف یہ نہیں پوچھتے کہ نوکریاں موجود ہیں یا نہیں؛ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تنخواہ کے بعد بچتا کیا ہے۔
صارفین کے اعتماد کے اشاریے اس بے چینی کو اور زیادہ واضح کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف مشیگن کے مطابق اپریل 2026 میں صارفین کے جذبات کا اشاریہ 49.8 تک گر گیا، جو غیر معمولی کم سطح ہے۔ اس کے برعکس کانفرنس بورڈ کا اعتماد اشاریہ اپریل میں معمولی بڑھ کر 92.8 ہو گیا، لیکن وہ بھی ایسی سطح پر ہے جسے مضبوط عوامی اطمینان نہیں کہا جا سکتا۔ دوسرے لفظوں میں، معیشت مکمل تباہی کا شکار نہیں، مگر عوام مطمئن بھی نہیں۔ یہی خلا سیاسی طور پر خطرناک ہوتا ہے۔
ٹرمپ کے لیے اصل مسئلہ شاید یہی ہے: وہ ایسی معیشت کے وارث یا نگران نہیں جو سرخیوں میں “بحران” کہلائے، مگر ایسی بھی نہیں جس پر عام امریکی پورے اعتماد سے مہر ثبت کریں۔ جی ڈی پی کی بہتری، مسلسل ملازمتوں کا اضافہ، اور نسبتاً کم بے روزگاری ان کے حق میں جاتے ہیں۔ لیکن مہنگائی، خاص طور پر ایندھن اور روزمرہ اخراجات میں دباؤ، ان تمام مثبت اعداد و شمار کو ووٹر کی نظر میں کمزور کر دیتا ہے۔
اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ امریکی معیشت اس وقت “بری” نہیں، بلکہ “پریشان کن حد تک ادھوری” حالت میں ہے۔ اوپر سے استحکام دکھائی دیتا ہے، نیچے سے بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ ٹرمپ اسے ترقی، ملازمت اور استحکام کی کہانی کے طور پر پیش کریں گے۔ ان کے ناقدین اسے مہنگائی، سکڑتے اعتماد اور گھریلو دباؤ کی کہانی بنائیں گے۔ اور انتخابات میں اکثر وہی بیانیہ زیادہ اثر ڈالتا ہے جو ووٹر کو اپنے گھر کے بجٹ میں نظر آئے۔
