کراچی، 5 مئی 2025 — اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی کلیدی شرحِ سود میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد کر دیا، جو کئی مبصرین کی توقع سے زیادہ بڑی کمی تھی۔ مرکزی بینک کے مطابق نئی شرح 6 مئی 2025 سے نافذ العمل ہوئی۔
اس فیصلے کے ساتھ اسٹیٹ بینک نے واضح اشارہ دیا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی نے شرحِ سود میں مزید نرمی کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ مارچ اور اپریل میں افراطِ زر میں تیزی سے کمی آئی، جس کی بڑی وجوہات خوراک کی قیمتوں میں نرمی اور بجلی کے نرخوں میں کمی رہیں۔ بنیادی مہنگائی میں بھی کچھ کمی دیکھی گئی، جس سے پالیسی سازوں کو نسبتاً بڑا قدم اٹھانے کا موقع ملا۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم سمجھا گیا کیونکہ مارکیٹ کے ایک بڑے حصے کو یا تو شرح برقرار رہنے کی توقع تھی یا زیادہ سے زیادہ 50 بیسس پوائنٹس کمی کی۔ ایسے میں 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی نے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کو چونکایا۔ یہ تاثر بھی مضبوط ہوا کہ مرکزی بینک اب مہنگائی کے دباؤ میں واضح کمی کو کافی حد تک پائیدار سمجھ رہا ہے۔
پاکستان میں اپریل 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 0.3 فیصد تک آ گئی تھی، جو حالیہ برسوں کے مقابلے میں نہایت کم سطح تھی۔ اسٹیٹ بینک نے اس کمی کی وجوہات میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں نرمی، گندم کی قیمتوں میں کمی، عالمی منڈی میں بعض اجناس کے نرم رجحان اور بجلی کے کم نرخوں کا حوالہ دیا۔
تاہم مرکزی بینک نے محتاط لہجہ بھی اختیار کیا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق آئندہ مہینوں میں مہنگائی بتدریج بڑھ سکتی ہے اور ممکنہ طور پر 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں مستحکم ہو سکتی ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ خوراک کی قیمتیں، توانائی کے نرخ، رسد میں خلل اور عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اب بھی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
شرحِ سود میں یہ کمی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب ملکی معیشت بتدریج بحالی کے مرحلے میں تھی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کی دوسری سہ ماہی میں معاشی نمو 1.7 فیصد رہی، جبکہ پہلی سہ ماہی کی شرح نمو پر نظرثانی کے بعد اسے 1.3 فیصد قرار دیا گیا۔ کم شرحِ سود سے کاروباری سرگرمیوں، نجی سرمایہ کاری اور قرض لینے کی لاگت پر کچھ مثبت اثر پڑنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
یہ کٹوتی اس وسیع تر سلسلے کا حصہ تھی جس کے تحت اسٹیٹ بینک نے سخت مالیاتی پالیسی کے دور کے بعد بتدریج نرمی شروع کر رکھی تھی۔ مئی 2025 کے فیصلے کے بعد پالیسی ریٹ مارچ 2022 کے بعد کم ترین سطح پر آ گیا، جو اس بات کا عندیہ تھا کہ مرکزی بینک اب مہنگائی کے مقابلے میں نمو کے پہلو کو بھی زیادہ وزن دے رہا ہے۔
مجموعی طور پر اس فیصلے سے یہ پیغام ملا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، لیکن مرکزی بینک اب بھی مکمل اطمینان کے بجائے محتاط توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شرحِ سود میں کمی کے باوجود آئندہ مہینوں کی پالیسی کا انحصار مہنگائی، عالمی منڈی اور داخلی معاشی حالات پر رہے گا۔
