آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے نے اپنے خواتین کے لیے مخصوص فلم سازی کے پروگرام ’اسٹوری شی ٹیلز‘ کا نیا ایڈیشن کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے — ایک ایسا اقدام جو اب پاکستان میں ابھرتی ہوئی خواتین فلم سازوں کے لیے نہایت اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
اس بار ملک بھر سے آٹھ نوجوان خواتین فلم ساز منتخب کی گئیں، جن کا تعلق کراچی، لاہور، ملتان، کوئٹہ اور چترال جیسے بالکل مختلف شہروں سے تھا۔ ہر شریک نے اپنی زندگی، تجربات اور اپنے سوالوں کے ساتھ پروگرام میں قدم رکھا، اور چھ ماہ کے دوران انہوں نے جوڑوں کی شکل میں ایسی دستاویزی فلمیں تیار کیں جو شناخت، اظہارِ فن، ثقافتی یادداشت اور ذاتی جدوجہد جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
یہ پروگرام پٹاخہ پکچرز (SOC Films کا پراجیکٹ) کے تحت منعقد ہوتا ہے، جسے برٹش کونسل اور اسکاٹش ڈاکیومنٹری انسٹیٹیوٹ کی معاونت حاصل ہے۔ انہی اداروں کے تجربہ کار مینٹورز — جن میں SDI کی ڈائریکٹر نوئے مینڈیل بھی شامل ہیں — نے نوجوان فلم سازوں کو کہانی کے زاویے، بصری اسلوب اور ایڈیٹنگ کے فیصلوں میں رہنمائی فراہم کی۔
حتمی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی جہاں شرکاء نے اپنی فلموں کے ابتدائی ٹریلرز پہلی بار پیش کیے۔ اسی روز ایڈیٹنگ ورکشاپس اور مکالموں کے سیشنز بھی رکھے گئے، جنہوں نے کئی ماہ کے تخلیقی سفر کو خوبصورت طریقے سے سمیٹ دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرمین نے بتایا کہ وہ اس پروگرام میں مسلسل سرمایہ کاری کیوں کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا:
“میں پاکستان کی پیداوار ہوں، مگر مواقع کی ایک سنہری راہ نے مجھے دنیا بھر میں ان کمروں تک پہنچایا جہاں عام طور پر ہمارے جیسی خواتین کم پہنچتی ہیں۔ اب میری باری ہے کہ میں یہ دروازے دوسری خواتین کے لیے کھولوں۔”
پٹاخہ پکچرز کے اثرات اب واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ اب تک اس پلیٹ فارم سے جڑے 69 فلم ساز دنیا بھر کے 50 سے زائد فلم میلوں میں اپنا کام دکھا چکے ہیں — اور کئی ایوارڈز بھی جیت چکے ہیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی خواتین کی آواز کو نمایاں تقویت ملی ہے۔
2025 کے بیج کی تیار کردہ فلموں کی رینج بھی متاثر کن ہے: تھیٹر، موسیقی، صنفی شناخت، سماجی سرگرمی اور ذاتی زندگی پر مبنی کہانیاں — جو پاکستان کی ثقافتی رنگارنگی اور خواتین کی تخلیقی قوت کو بھرپور انداز میں ظاہر کرتی ہیں۔
‘اسٹوری شی ٹیلز’ سائز میں شاید چھوٹا پروگرام ہو، مگر اس کا اثر بہت بڑا ہے — یہ پاکستان میں اگلی نسل کی خواتین فلم سازوں کی بنیاد رکھ رہا ہے، وہ خواتین جو مستقبل میں ملک کی کہانیوں کا رنگ اور لہجہ طے کریں گی۔
