جنوبی افریقا نے پیر کو بینونی کے ولو مور پارک میں بھارت کے خلاف پانچویں اور آخری ویمنز ٹی 20 میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ کپتان لارا وولوارڈٹ نے اس سیریز میں مسلسل پانچویں بار ٹاس اپنے نام کیا، جو خود بھی ایک دلچسپ پہلو بن گیا۔ تاہم اصل بڑی خبر یہ تھی کہ جنوبی افریقا پہلے ہی سیریز 3-1 سے اپنے نام کر چکا تھا، جبکہ بھارت نے چوتھے میچ میں کامیابی حاصل کر کے صرف خسارہ کچھ کم کیا تھا۔
اس سیریز میں جنوبی افریقا نے خاصا مضبوط کھیل دکھایا۔ تیسرے ٹی 20 میں اس نے 193 رنز کا ہدف صرف ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا تھا، اور اسی فتح کے ساتھ سیریز بھی جیت لی تھی۔ اس میچ میں وولوارڈٹ نے صرف 53 گیندوں پر 115 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، جس نے نہ صرف بھارت کو دباؤ میں ڈال دیا بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ جنوبی افریقی ٹیم آئندہ ٹی 20 ورلڈ کپ سے پہلے اچھی فارم میں ہے۔
بھارت نے اگرچہ ابتدائی میچوں میں مشکلات کا سامنا کیا، مگر چوتھے ٹی 20 میں اس نے بھرپور جواب دیا۔ بھارت نے 185 رنز بنانے کے بعد جنوبی افریقا کو 14 رنز سے شکست دی۔ دیپتی شرما اس کامیابی کی مرکزی کردار رہیں؛ انہوں نے 36 ناٹ آؤٹ رنز بنائے اور پھر 5 وکٹیں لے کر میچ کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔ جمائما روڈریگز نے بھی 43 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ اس جیت سے بھارت سیریز تو نہیں بچا سکا، لیکن آخری میچ سے پہلے اس کے حوصلے ضرور بلند ہوئے۔
جنوبی افریقا کے لیے یہ سیریز صرف ایک معمول کی کامیابی نہیں تھی۔ اس سیزن میں اس نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر آئرلینڈ، پاکستان اور بھارت کے خلاف سیریز جیت کر یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ ٹیم بڑے ٹورنامنٹس سے پہلے درست سمت میں جا رہی ہے۔ خاص طور پر بیٹنگ یونٹ نے اعتماد کے ساتھ کھیل پیش کیا، جبکہ باؤلنگ نے بھی اہم مواقع پر قابو رکھا۔
بینونی میں آخری میچ کے آغاز پر جنوبی افریقا کا پہلے بیٹنگ کا فیصلہ بھی اسی اعتماد کی عکاسی کرتا تھا۔ ٹیم صرف سیریز جیتنے پر مطمئن نظر نہیں آ رہی تھی بلکہ آخری مقابلے میں بھی اپنے انداز میں کھیل کر برتری برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ دوسری جانب بھارت کی کوشش تھی کہ وہ دورے کا اختتام ایک اور مضبوط کارکردگی کے ساتھ کرے اور یہ ثابت کرے کہ سیریز کا فرق دونوں ٹیموں کے درمیان مکمل تصویر نہیں تھا۔
ابتدائی اوورز میں جنوبی افریقا نے بغیر کسی وکٹ کے 47 رنز بنا کر مثبت آغاز کیا، جس سے اندازہ ہو گیا کہ میزبان ٹیم آخری میچ میں بھی دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ سوچ کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔
