ڈبلن — آئرلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم نے منگل کے روز پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف عبور کر کے سب کو حیران کر دیا۔
میچ کے نصف تک پاکستان کی پوزیشن انتہائی مضبوط تھی۔ مہمان ٹیم کے ٹاپ آرڈر نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 158 رنز کا ہدف سیٹ کیا۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں یہ ٹوٹل عموماً حریف ٹیم کے لیے ایک پہاڑ جیسا ہوتا ہے، خاص طور پر جب درکار رن ریٹ آٹھ سے اوپر چلا جائے۔ لیکن آئرلینڈ کی بلے بازوں نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
گیبی لیوس نے اس تعاقب میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف اسکور بورڈ کو متحرک رکھا بلکہ اپنی بیٹنگ کے ذریعے پاکستانی بولرز پر دباؤ برقرار رکھا۔ آخری اوورز تک پہنچتے پہنچتے میچ کا مکمل کنٹرول آئرلینڈ کے ہاتھ میں آ چکا تھا اور پاکستانی فیلڈرز بے بس نظر آئے۔
پاکستان کی بولنگ لائن، جو عام طور پر نظم و ضبط کے لیے جانی جاتی ہے، اس دباؤ کے سامنے بکھر گئی۔ ڈیتھ اوورز میں لگنے والے باؤنڈریز نے ایک مسابقتی میچ کو یکطرفہ مقابلے میں بدل دیا۔ آئرلینڈ نے ہدف تک رسائی حاصل کی تو پاکستانی کیمپ میں صف ماتم بچھ گئی، جبکہ اسی پچ پر کچھ دیر قبل پاکستانی بیٹرز نے آسانی سے رنز بنائے تھے۔
پاکستان کے لیے یہ شکست صرف اسکور بورڈ تک محدود نہیں ہے۔ یہ ہدف کا دفاع کرنے میں ٹیم کی ذہنی کمزوری اور حکمت عملی کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔ مڈل اوورز میں وکٹیں نہ لے پانا اور شراکت داریوں کو نہ توڑنا مہمان ٹیم کو بہت مہنگا پڑا۔
آئرلینڈ کی کپتان نے میچ کے بعد کہا کہ ان کی ٹیم نے ہائی پریشر میچز کے لیے خصوصی تیاری کی تھی، جس کا نتیجہ میدان میں نظر آیا۔ انہوں نے رن ریٹ بڑھنے کے باوجود گھبرانے کے بجائے مثبت کرکٹ کھیلی اور موقع ملتے ہی باؤنڈریز بٹوریں۔
دونوں ٹیمیں اب جمعرات کو دوبارہ مدمقابل ہوں گی۔ پاکستان کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی بولنگ حکمت عملی کو فوری طور پر درست کرے، ورنہ سیریز ان کے ہاتھوں سے نکل سکتی ہے۔
