برطانوی شاہی خاندان کے اندرونی حلقوں کے مطابق شہزادہ ہیری اپنے والد، کنگ چارلس کی 76 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کی دعوت نہ ملنے پر شدید رنجیدہ ہیں۔ اگرچہ بادشاہ نے اپنی سالگرہ نجی سطح پر منائی، لیکن ہیری کو اس کا حصہ نہ بنانا اس خلیج کو مزید واضح کرتا ہے جو ڈیوک آف سسیکس اور شاہی محل کے درمیان حائل ہو چکی ہے۔
یہ دوری محض ایک سالگرہ کی دعوت کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ اس بڑھتے ہوئے فاصلے کا تسلسل ہے جو ہیری کی کتاب ‘سپیئر’ اور نیٹ فلکس ڈاکومینٹری کے بعد سے مزید گہرا ہوا ہے۔ شاہی محل نے اب ایک دفاعی حکمت عملی اپنا لی ہے، جہاں ہیری کے انکشافات کو اعتماد کا قتل قرار دے کر ان سے فاصلہ برقرار رکھنا ہی واحد راستہ سمجھا جاتا ہے۔
سسیکس کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ ہیری کے لیے یہ نظر انداز کیا جانا کسی صدمے سے کم نہیں۔ وہ شخص جس نے اپنی نجی زندگی اور ذہنی سکون کے لیے شاہی ذمہ داریوں کو خیرباد کہا تھا، اب اپنے ہی خاندان کے مرکزی دھارے سے مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔ محل کے مشیروں کا موقف ہے کہ کنگ چارلس کی ترجیح اس وقت ان کی اپنی صحت اور بادشاہت کے امور ہیں، اور خاندانی تنازعات میں الجھنا ان کے لیے ایک غیر ضروری بوجھ ہے۔
دوسری جانب، ہیری کے لیے لندن کی خاموشی ایک مستقل جلاوطنی کا پیغام ہے۔ شہزادہ ہیری اکثر مفاہمت کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں، لیکن محل کی جانب سے مسلسل خاموشی ان دعووں کو کھوکھلا ثابت کر رہی ہے۔ وہ اس وقت کیلیفورنیا میں موجود ہیں، جہاں سے وہ ان شاہی تقریبات کو صرف ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔
شاہی خاندان کے دونوں دھڑوں کے درمیان اب تک کوئی ایسی پیش رفت سامنے نہیں آئی جس سے کسی صلح کی امید کی جا سکے۔ جب تک دونوں جانب سے ماضی کے تلخ تجربات کو بھلا کر بات چیت کا کوئی ٹھوس طریقہ کار نہیں اپنایا جاتا، ہیری کی یہ تکلیف ایک ذاتی بوجھ بنی رہے گی جو عالمی میڈیا کی نظروں کے سامنے مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
