ممبئی — بھارتی کرکٹ ایک بہت بڑی نسل نو (جنریشنل) تبدیلی کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ ایک ایسے فیصلے میں جو مستقبل کے لیے بورڈ کے جارحانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے، نے بی سی سی آئی (BCCI) نے آئچی ناگویا میں ہونے والے 2026 کے ایشین گیمز کے لیے 30 رکنی ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست میں 15 سالہ بیٹنگ سنسنی ویبھو سوریا ونشی کو شامل کر لیا ہے۔
دوسری طرف، موجودہ ٹی20 کپتان سوریاکمار یادو اور ٹیسٹ/ون ڈے فارمیٹ کے کپتان شبمن گل کو اس اسکواڈ سے مکمل طور پر باہر کر دیا گیا ہے۔ کرکٹ ویب سائٹ ‘ای ایس پی این کرک انفو’ کے مطابق، یہ غیر معمولی فیصلہ 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس اور اگلے ٹی20 ورلڈ کپ سائیکل کے لیے بھارتی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا واضح اشارہ ہے۔
سوریا ونشی کی شمولیت سال 2026 میں ان کی شاندار اور ناقابلِ یقین کارکردگی کا نتیجہ ہے جس نے کرکٹ دنیا کو حیران کر رکھا ہے۔ اس نوجوان نے پہلے انڈیا انڈر-19 ٹیم کو ورلڈ کپ جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جہاں انہوں نے فائنل میں 175 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی۔ اس کے بعد آئی پی ایل 2026 (IPL 2026) میں راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے تباہ کن بیٹنگ کی اور 16 میچوں میں کے ناقابلِ یقین اسٹرائیک ریٹ سے 776 رنز بنائے، جس میں ایک سنچری اور نوے کی دہائی کے تین اسکور شامل تھے۔
دنیا کے مایہ ناز انٹرنیشنل بولرز کے خلاف ان کی بے خوف ہٹنگ نے انہیں راتوں رات اسٹار بنا دیا اور سینئرز کی سفید گیند (وائٹ بال) کرکٹ کے پلان میں شامل کر دیا۔ اگرچہ ایشین گیمز کی ابتدائی فہرست میں نام ہونے سے ان کے ڈیبیو کی سو فیصد ضمانت نہیں ہوتی، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب سلیکٹرز کی پہلی پسند بن چکے ہیں۔ چونکہ ایشین گیمز کا شیڈول ویسٹ انڈیز کے خلاف بھارت کی ہوم سیریز سے ٹکرا رہا ہے، اس لیے سلیکٹرز دو الگ الگ ٹیمیں تشکیل دے رہے ہیں، اور ایشین گیمز کو اس 15 سالہ نوجوان کے انٹرنیشنل ڈیبیو کے لیے بہترین پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے۔
ان دونوں بڑے کھلاڑیوں کو ڈراپ کیے جانے کی وجوہات بالکل مختلف ہیں:
-
شبمن گل: بھارتی ٹیم کے کپتان شبمن گل ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز (3 ون ڈے اور 5 ٹی20 میچز، 27 ستمبر تا 17 اکتوبر) میں مصروف ہوں گے، جو کہ ایشین گیمز (24 ستمبر تا 3 اکتوبر) کے ساتھ اوورلیپ کر رہی ہے۔ گل ون ڈے ٹیم کی قیادت کریں گے، جس کی وجہ سے وہ ایشین گیمز کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔
-
سوریا کمار یادو (SKY): سوریا کمار کا کیس مکمل طور پر فارم اور مستقبل کی پلاننگ سے جڑا ہے۔ اگرچہ ان کی کپتانی میں بھارت نے مسلسل 8 دوطرفہ سیریز، 2025 کا ایشیا کپ اور 2026 کا ٹی20 ورلڈ کپ جیتا، لیکن ان کا اپنا بلا بالکل خاموش ہو چکا ہے۔ سال 2025 کے آغاز سے اب تک انہوں نے 25 میچوں میں محض کی اوسط سے رنز بنائے اور آئی پی ایل 2026 میں وہ صرف 270 رنز بنا سکے۔ 2024 کے ورلڈ کپ سے لے کر 2025 کے اختتام تک، 28 اننگز میں ان کی اوسط صرف رہی، جس میں صرف دو ففٹیاں شامل تھیں۔
بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور سلیکٹرز اب سوریا کمار کو 2028 کے اولمپکس کے طویل مدتی پلان کا حصہ نہیں دیکھ رہے، اس لیے انہیں کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ اعلان جلد متوقع ہے۔
سوریا کمار یادو کی عدم موجودگی میں ایشین گیمز کے لیے کپتانی کی دوڑ اب شریاس ائیر، سنجو سیمسن اور تلک ورما کے درمیان محدود ہو گئی ہے۔
اگرچہ مایہ ناز فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کو 30 رکنی پول میں رکھا گیا ہے، لیکن 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے باعث ان کے ورک لوڈ کو مینیج کیا جائے گا اور وہ اس ایونٹ کا حصہ نہیں ہوں گے۔ فاسٹ بولنگ میں ارشدیپ سنگھ، ہرشیت رانا اور پرسدھ کرشنا شامل ہیں، جبکہ اسپن شعبے کی کمان کلدیپ یادو، اکشر پٹیل، واشنگٹن سندر اور ڈومیسٹک اسٹار ہرش دوبے کے ہاتھوں میں ہوگی۔
ویبھو سوریا ونشی کی آمد نے سلیکٹرز کے لیے پوزیشنز کا ایک بڑا مقابلہ کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ اوپننگ اور ٹاپ آرڈر میں پہلے ہی یشسوی جیسوال، ابھیشیک شرما، ایشان کشن اور سنجو سیمسن جیسے دھواں دھوار کھلاڑی موجود ہیں۔ تاہم، بی سی سی آئی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب ناموں کے بجائے صرف کرنٹ فارم اور بے خوف اسٹرائیک ریٹ کو ہی ترجیح دی جائے گی۔
