لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کی پچ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ‘غیر تسلی بخش’ قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان حال ہی میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں انتہائی سست پچ کے استعمال کے بعد سامنے آیا ہے۔ میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کی جانب سے دی گئی رپورٹ کی توثیق کے بعد آئی سی سی نے یہ کارروائی کی ہے، جس نے بین الاقوامی کرکٹ میں پچ کی تیاری کے معیار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
میچ کے دوران پچ کی رفتار اور باؤنس توقع سے کہیں زیادہ کم رہی، جس نے بلے بازوں اور گیند بازوں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ ایک ایسا مقابلہ جو شائقین کے لیے دلچسپ ثابت ہو سکتا تھا، محض صبر آزما مشق بن کر رہ گیا۔ گیند بلے پر صحیح طریقے سے نہیں آ رہی تھی، جس کے باعث کھیل کی رفتار متاثر ہوئی۔
یہ درجہ بندی محض ایک تنقیدی تبصرہ نہیں، بلکہ اس کے عملی مضمرات بھی ہیں۔ آئی سی سی کے ضوابط کے تحت ‘غیر تسلی بخش’ قرار دی جانے والی پچ پر میزبان اسٹیڈیم کو ایک ڈی میرٹ پوائنٹ ملتا ہے۔ اگر کسی اسٹیڈیم کو پانچ سال کے عرصے میں پانچ ڈی میرٹ پوائنٹس مل جائیں، تو اسے 12 ماہ کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے معطل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے کیوریٹرز کافی عرصے سے ایسی پچز تیار کرنے کے دباؤ میں ہیں جو بلے اور گیند کے درمیان توازن برقرار رکھ سکیں۔ قذافی اسٹیڈیم، جو پاکستان کرکٹ کا تاریخی مرکز ہے، ماضی میں بھی اپنی ‘فلیٹ’ اور بے جان پچز کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہا ہے، جس سے جارحانہ کرکٹ کا امکان محدود ہو جاتا ہے۔
میچ آفیشلز کے قریب ذرائع کا کہنا ہے کہ "وکٹ پر گیند میں نہ تو مطلوبہ اچھال تھا اور نہ ہی کیری، جس کی وجہ سے کھیل میں کوئی مسابقت نظر نہیں آئی۔”
پی سی بی کے لیے یہ درجہ بندی ایک الارم کی حیثیت رکھتی ہے۔ جیسے جیسے بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں، آئی سی سی کی جانب سے بنیادی ڈھانچے اور خاص طور پر پچ کی تیاری کے معیار پر سمجھوتہ کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
لاہور میں پچ مینجمنٹ کی حکمت عملی کو اب فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر پی سی بی کے کیوریٹرز زیادہ اسپورٹنگ اور متوازن پچز تیار کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو قذافی اسٹیڈیم کو مستقبل میں مزید سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے اس کی میزبانی کے حقوق بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
