لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پاکستان پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے "پارٹ ٹائم پی ٹی آئی” قرار دے دیا ہے۔ یہ بیان حکومتی اتحاد میں بڑھتی ہوئی خلیج اور پی ٹی آئی کے طرزِ سیاست کو اپنانے پر پیپلز پارٹی کے کردار پر ایک سخت ردعمل ہے۔
عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے پنجاب میں ترقیاتی فنڈز اور انتظامی تقرریوں پر اٹھائے گئے تحفظات کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اب وہی زبان استعمال کر رہی ہے جو ماضی میں عمران خان کی جماعت کرتی تھی۔
"یہ لوگ اب پارٹ ٹائم پی ٹی آئی کا کردار ادا کر رہے ہیں،” وزیر اطلاعات نے کہا۔ انہوں نے ان تاثرات کو یکسر مسترد کیا کہ پیپلز پارٹی کو فیصلوں سے دور رکھا جا رہا ہے۔
تعلقات میں یہ تلخی اس وقت بڑھی جب پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے پبلک پلیٹ فارمز پر الزام لگایا کہ ن لیگ پنجاب میں طے شدہ پاور شیئرنگ معاہدوں کی پاسداری نہیں کر رہی۔ وفاق میں اتحادی ہونے کے باوجود صوبائی سطح پر دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان واضح دکھائی دے رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات نے حکومت کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں، جو عملی طور پر اپوزیشن کے بیانیے سے مطابقت رکھتے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے ان الزامات کو سیاسی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے، لیکن حکومت کو دھمکیوں کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیپلز پارٹی کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے پیپلز پارٹی جارحانہ موقف اپنا کر ن لیگ کے ووٹرز کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اتحادی حکومت کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو وفاقی سطح پر قانون سازی اور حکومتی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
اب تک پیپلز پارٹی کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ جوابی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، پنجاب میں بجٹ سیشن کی قریب آتی تاریخوں کے پیش نظر، دونوں جماعتوں کے درمیان یہ کھینچا تانی آنے والے دنوں میں سیاسی منظر نامے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
