کراچی، 3 اگست 2026: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تصدیق کی ہے کہ کراچی میں پارٹی کے بہادر آباد مرکز پر پیش آنے والے تصادم کے دوران ایک کارکن گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ انہوں نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی کارکنوں کے درمیان غلط فہمی کے باعث پیش آیا، اور تمام کارکنوں سے اتحاد اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
اطلاعات کے مطابق یہ تصادم پارٹی کے ایک اجلاس کے دوران اس وقت شروع ہوا جب دو گروپوں کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی، پتھراؤ اور فائرنگ میں تبدیل ہو گئی۔ واقعے میں متعدد کارکن زخمی ہوئے، جبکہ ایک کارکن کو گولی لگنے کے بعد فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔
واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پارٹی قیادت نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور معاملات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو پارٹی کے اتحاد اور ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
پولیس حکام کے مطابق اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں لے لیا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پولیس شواہد اکٹھے کر رہی ہے تاکہ تصادم کی وجوہات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایم کیو ایم پاکستان کے مختلف گروپوں کے درمیان جاری اندرونی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے، جس کے باعث حالیہ مہینوں میں پارٹی کے اندر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس تصادم نے نہ صرف پارٹی اجلاس کو متاثر کیا بلکہ کارکنوں کے درمیان اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے کارکنوں سے تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اختلافات کو بات چیت اور تنظیمی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے گا تاکہ پارٹی کا اتحاد برقرار رہے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
