سابق وفاقی وزیر عابد شیر علی نے کراچی کی سڑکوں کی مخدوش حالت پر طنز کے نشتر برساتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شہر کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں پر سفر ان کی صحت کے لیے اتنا نقصان دہ ہے کہ انہیں ہر دورے کے بعد فزیو تھراپی کروانا پڑتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما، جو اپنے جارحانہ سیاسی انداز کے لیے جانے جاتے ہیں، نے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران شہرِ قائد کے انفراسٹرکچر کو "ڈراؤنا خواب” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کی سڑکوں پر گاڑی چلانا معمول کا سفر نہیں بلکہ ایک جسمانی امتحان بن چکا ہے۔
عابد شیر علی کا یہ بیان کراچی کے انتظامی اور بنیادی مسائل پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان جاری کشمکش کی ایک تازہ جھلک ہے۔ جہاں سندھ حکومت اکثر فنڈز کی کمی اور شہری منصوبہ بندی کی پیچیدگیوں کا عذر پیش کرتی ہے، وہیں مخالفین کا موقف ہے کہ یہ تباہ حالی حکومتی غفلت اور ناقص کارکردگی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
کراچی کے باسیوں کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں؛ شہر کی اہم شاہراہیں بڑے گڑھوں، اکھڑی ہوئی کارپٹنگ، اور کھلے مین ہولز کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ یہ محض جمالیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ روزمرہ کی وہ رکاوٹیں ہیں جو گاڑیوں کے سسپنشن تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک جام کا باعث بن کر شہریوں کا وقت اور سکون برباد کر رہی ہیں۔
ایک سابق وفاقی وزیر کا یہ بیان اس شدید مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو شہر سے گزرنے والے ہر شخص کے دل میں ہے۔ جب حکومتی ایوانوں میں رہنے والے رہنما خود اس شہری بدانتظامی کا شکار ہو کر اس کا اظہار کریں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ کراچی کا انفراسٹرکچر اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں اسے مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
صوبائی انتظامیہ کی جانب سے عابد شیر علی کے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی سڑکوں کی خستہ حالی ایک ایسا سیاسی ہتھیار بن چکی ہے جسے مخالفین حکومتی ناکامیوں کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
کیا ان بیانات کے بعد سڑکوں کی مرمت کا کوئی کام شروع ہو گا؟ اس کا جواب وہی پرانا ہے جو برسوں سے کراچی کی ٹریفک کی طرح جام ہے۔ حکومتی ذمہ داران کے درمیان الزامات کی سیاست جاری ہے، جبکہ شہر کی سڑکیں بدستور شہریوں کی کمر توڑنے کے لیے تیار ہیں۔
