مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہنگائی کے دباؤ کے پیشِ نظر مرکزی بینک نے معاشی استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے قرض کی لاگت میں کسی قسم کی کمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے صنعتی حلقوں کی جانب سے دی جانے والی ریلیف کی توقعات دم توڑ گئی ہیں۔
ماہرینِ معاشیات اس فیصلے پر منقسم تھے۔ ایک طبقہ معاشی سست روی کو دیکھتے ہوئے شرح سود میں کمی کا حامی تھا، لیکن مرکزی بینک نے قیمتوں کے استحکام کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔ کمیٹی کا موقف ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں اور سپلائی چین میں رکاوٹیں اب بھی معیشت کے لیے خطرہ ہیں، لہذا سخت مانیٹری پالیسی کا تسلسل ناگزیر ہے۔
کاروباری برادری کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ بلند شرح سود کے باعث قرضوں کی واپسی کی لاگت میں کوئی کمی نہیں آئے گی، جس سے مینوفیکچرنگ سیکٹر پر دباؤ برقرار رہے گا۔ مقامی منڈی میں طلب میں کمی پہلے ہی صنعت کاروں کے منافع کو متاثر کر رہی ہے، اور اب انہیں مزید کچھ عرصہ مہنگے قرضوں کے ساتھ ہی کام چلانا ہوگا۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ ان کا اگلا قدم معاشی اعداد و شمار پر منحصر ہوگا۔ عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے بینک کسی قسم کا رسک لینے کو تیار نہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ اگر ابھی شرح سود کم کی گئی تو مہنگائی میں اضافے کا نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔
صارفین کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق عوام نے غیر ضروری اشیاء کی خریداری میں نمایاں کمی کر دی ہے، لیکن مرکزی بینک کا سارا زور فی الحال قیمتوں کو قابو میں رکھنے پر ہے۔
اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ شرح سود کو طویل عرصے تک بلند رکھنے سے معاشی بحالی کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔ ایک مقامی بروکریج ہاؤس کے سینئر ماہرِ معاشیات نے کہا کہ "حکام ‘مکمل اعداد و شمار’ کے انتظار میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صنعتی پیداوار میں مزید گراوٹ کا خطرہ ہے۔”
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اگلا اجلاس چھ ہفتوں بعد ہوگا۔ تب تک قرض لینے والوں کو موجودہ بلند شرح سود کے ساتھ ہی معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
