کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں آج ہلکی اور تیز بارش کے بعد شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ صبح سویرے شروع ہونے والی بارش نے جہاں موسم کو خوشگوار بنایا، وہیں صوبے کے شہری مراکز میں نکاسی آب کے پرانے مسائل بھی سر اٹھانے لگے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب سے آنے والا ہوا کا دباؤ صوبے کے بالائی اور زیریں علاقوں تک پھیل گیا ہے۔ دادو اور لاڑکانہ میں دوپہر تک موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کراچی میں وقفے وقفے سے ہونے والی ہلکی بوندا باندی نے پارہ 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھا۔
صوبائی دارالحکومت کے لیے یہ بارش ملا جلا پیغام لے کر آئی۔ آئی آئی چندریگر روڈ اور شاہراہِ فیصل سمیت اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ کے الیکٹرک نے اورنگی اور سرجانی ٹاؤن سمیت کئی علاقوں میں بارش کے دوران ‘حفاظتی اقدامات’ کے تحت بجلی کی فراہمی معطل کر دی، جس سے مکینوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔
دوسری جانب، بالائی سندھ کے کسانوں نے اس بارش کو فصلوں کے لیے غنیمت قرار دیا ہے۔ خریف کی فصل کی کاشت کے دوران پانی کی قلت سے نبردآزما کاشتکاروں کے لیے یہ نمی زمین کی زرخیزی کے لیے اہم ہے۔
خیرپور کے قریب کھیتوں میں موجود کاشتکار عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ "فصلیں پیاس سے جھلس رہی تھیں، یہ بارش صرف موسم کو ٹھنڈا نہیں کر رہی بلکہ ہمارے اس سیزن کی پیداوار کو بھی بچا رہی ہے۔”
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ اگرچہ موجودہ سسٹم کو درمیانے درجے کا قرار دیا گیا ہے، لیکن حکام نے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشے کے پیشِ نظر ہنگامی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کے ناقص نظام کے باعث معمولی بارش بھی ان کے لیے دردِ سر بن جاتی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ جمعرات تک جاری رہے گا، جس کے دوران ساحلی علاقوں میں مطلع ابر آلود اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ فی الحال، دو ہفتوں سے جاری شدید گرمی کا راج ختم ہو چکا ہے اور ٹھنڈی ہواؤں نے شہریوں کو طویل گرمی کے بعد سکون کا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔
