بیونس آئرس — ارجنٹائن کے استغاثہ نے لیام پین کی زندگی کے آخری لمحات کی کڑیوں کو جوڑنا شروع کر دیا ہے۔ تفتیش کار اب ابتدائی مفروضوں سے آگے بڑھ کر ‘کاساسر پالرمو ہوٹل’ کے اس کمرے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جہاں سابق ون ڈائریکشن اسٹار نے اپنی زندگی کے آخری گھنٹے گزارے۔
اکتیس سالہ گلوکار بدھ کے روز ہوٹل کی تیسری منزل کی بالکونی سے گر کر ہلاک ہوئے۔ فارنزک ٹیموں نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران کمرے کی تلاشی لی ہے، جہاں سے انہیں لیپ ٹاپ اور ٹیلی ویژن کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کے علاوہ کچھ مشکوک اشیاء ملی ہیں جن کا کیمیائی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کا محور اب ان واقعات پر ہے جو گرنے سے ٹھیک پہلے پیش آئے۔ پراسیکیوٹرز نے تصدیق کی ہے کہ وہ ہوٹل کے اندرونی مواصلاتی ریکارڈ کا جائزہ لے رہے ہیں اور عملے سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا پین کمرے میں تنہا تھے یا اس دن کوئی اور بھی وہاں موجود تھا۔
اس معاملے کا ایک اہم ترین پہلو ٹوکسیکولوجی رپورٹ ہے۔ ابتدائی نتائج سے پتا چلتا ہے کہ ان کے خون میں ‘پنک کوکین’ جیسے مادوں کے اثرات ہو سکتے ہیں—جو کہ کیٹامائن، میتھامفیٹامائن اور ایم ڈی ایم اے کا ایک خطرناک مرکب ہے۔ پراسیکیوٹرز اب مکمل پوسٹ مارٹم کے ذریعے ان نتائج کی تصدیق کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ واقعے کے وقت گلوکار کس حد تک ہوش و حواس میں تھے۔
واقعے سے کچھ منٹ قبل ہوٹل کے مینیجر کی جانب سے کی جانے والی 911 کال اس تحقیقات کا ایک کربناک پہلو ہے۔ مینیجر نے پولیس کو بتایا تھا کہ ایک مہمان "نشے اور شراب میں دھت ہے” اور "کمرے میں توڑ پھوڑ کر رہا ہے۔” جب پولیس وہاں پہنچی تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
بیونس آئرس میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تفتیش اب اس بات پر مرکوز ہے کہ کمرے سے ملنے والے نشہ آور مادے کہاں سے آئے۔ ارجنٹائن کے قانون کے تحت، اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ منشیات کسی نے پین کو فراہم کی تھیں، تو تحقیقات کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے اور تیسرے فریق کے خلاف "منشیات کی فراہمی میں معاونت” کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔
لیام پین کے والد، جیف پین، اپنے بیٹے کی میت کی شناخت اور اسے وطن واپس لے جانے کے انتظامات کے لیے گزشتہ روز ارجنٹائن پہنچے۔ انہوں نے ہوٹل کے باہر اس یادگاری مقام کا دورہ کیا جہاں سینکڑوں مداحوں نے پھول اور موم بتیاں جلا کر گلوکار کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
تفتیش ابھی جاری ہے۔ گلوکار کے برآمد شدہ ڈیجیٹل آلات کے فارنزک تجزیے اور ٹوکسیکولوجی رپورٹس کے نتائج آنے والے دنوں میں متوقع ہیں۔ حکام ایک حتمی ٹائم لائن تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فی الحال، تمام تر توجہ اسی کمرے پر ہے—ایک ایسا کمرہ جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شدید افراتفری کی حالت میں تھا، جو اس آخری اور جان لیوا حادثے سے قبل کسی اندرونی کشمکش کی غمازی کرتا ہے۔
