ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے حوالے سے نقطہ نظر کبھی بھی سیدھی لکیر نہیں رہا۔ یہ ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پابندیوں، فوجی حملوں کے قریب پہنچنے، اور ایک ‘بہتر ڈیل’ کی متضاد خواہش کا ایک غیر مستحکم امتزاج ہے۔
وائٹ ہاؤس واپسی کی مہم کے دوران ٹرمپ کا بیانیہ اب بھی ان کی پہلی مدت صدارت کی طرح غیر متوقع ہے۔ وہ ایک لمحے ایرانی قیادت کو وجودی خطرہ قرار دیتے ہیں، تو دوسرے لمحے ایک فون کال کے ذریعے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اس سال کے اوائل میں مار-اے-لاگو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، "میں ایران سے لڑنا نہیں چاہتا، لیکن انہیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
یہی جذبہ ان کے نظریے کا نچوڑ ہے: ‘لامتناہی جنگوں’ سے گریز، اور ساتھ ہی مکمل بالادستی پر اصرار۔ اپنی صدارت کے دوران، انہوں نے 2018 میں ایران جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی۔ انہوں نے اوباما دور کے اس معاہدے کو "تاریخ کی بدترین ڈیل” قرار دیا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اس نے تہران کو جوہری صلاحیت کا راستہ دیا اور علاقائی پراکسیوں کی مالی معاونت کی۔
اس کا اثر فوری تھا۔ ٹرمپ نے سفارت کاری کی جگہ ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی مہم لے لی اور سخت تیل پابندیوں سے ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ دیا۔ اس کا نقطہ عروج جنوری 2020 میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت تھی۔ یہ وہ اقدام تھا جس نے دونوں ممالک کو براہِ راست تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
اس کے بعد عراق میں عین الاسد ایئربیس پر ایرانی جوابی میزائل حملے کے باوجود ٹرمپ کا ردعمل محتاط رہا۔ انہوں نے جوابی کارروائی کے بجائے کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دی، جو ایک بڑی زمینی جنگ سے ان کی گہری بیزاری کو ظاہر کرتا ہے۔
اس وقت انہوں نے کہا تھا، "ہمیں وہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تضاد ایک خطرناک خلا پیدا کرتا ہے۔ وہ بحری جہازوں پر ڈرون حملوں سے لے کر پراکسی جنگوں تک بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہیں کہ تنہائی تہران کے عزائم کو نہیں روکتی۔ ان کے نزدیک، ٹرمپ کا ‘طاقت کے ذریعے امن’ کا نظریہ دراصل اسٹریٹجک انخلاء کا نیا نام ہے جو جارحیت کو دعوت دیتا ہے۔
حمایتی اسے مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسی کو ان کا سب سے بڑا اثاثہ مانتے ہیں۔ ان کے خیال میں، ایک غیر روایتی اور فیصلہ کن امریکی صدر کا خوف تہران کو توازن کھونے پر مجبور رکھتا ہے، جس سے وہ ایسے خطرات مول لینے سے گریز کرتے ہیں جن پر وہ کسی روایتی انتظامیہ کے تحت غور کر سکتے تھے۔
ٹرمپ کے حالیہ انتخابی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر وہ اقتدار میں رہتے تو ایران "دیوالیہ” ہو چکا ہوتا اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوتا۔ وہ موجودہ علاقائی عدم استحکام کو اپنی سابقہ پالیسیوں کی ناکامی کے بجائے اپنے جانشین کے عزم کی کمی قرار دیتے ہیں۔
یہ ایک حقیقی حکمت عملی ہے یا انتخابی ڈرامہ، یہ سوال اب بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ کی ایران پالیسی کسی مربوط فریم ورک کے بجائے خود ان کی شخصیت کے گرد گھومتی ہے: ایک ایسا رہنما جو جنگ سے بچنے کے لیے خوفزدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن جو اس ڈیل کا دروازہ کبھی بند نہیں کرنا چاہتا جس پر وہ اپنا نام لکھ سکے۔
انتخابات قریب آتے ہی ٹرمپ کیمپ کا پیغام واضح ہے: موجودہ صورتحال ناکام ہو چکی ہے، اور صرف ایک ‘ڈیل میکر’ ہی اسے ٹھیک کر سکتا ہے۔ اگر کچھ غائب ہے تو وہ صرف ایک ٹھوس روڈ میپ ہے۔
