منگل کی شب سوشل میڈیا پر ایک 30 سیکنڈ کی دھندلی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں چھ پاکستانی ملاح صومالی ساحل کے قریب اغوا ہونے والے جہاز ’الدھو الکوثر‘ کے عملے کے ارکان کے طور پر نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں ملاحوں کو ایک خستہ حال کمرے میں زمین پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ان کے ارد گرد مسلح افراد موجود ہیں۔ خوفزدہ ملاح اپنی زندگیوں کی بھیک مانگ رہے ہیں، ان کی آوازیں تیز ہوا اور اغوا کاروں کے سخت لہجے میں دب رہی ہیں۔
کراچی اور گوادر میں موجود ان ملاحوں کے اہل خانہ کے لیے یہ ویڈیو ایک جانب تو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پیارے زندہ ہیں، دوسری جانب یہ بحیرہ ہند میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کا ایک تلخ اشارہ بھی ہے۔
قزاقوں نے تاوان کا مطالبہ کیا ہے، تاہم رقم کی حتمی تفصیلات تاحال خفیہ ہیں۔ صومالی بحری مجرم اکثر ایسی ویڈیوز کو نفسیاتی دباؤ کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ شپنگ کمپنیوں اور حکومتوں سے من مانی شرائط پر مذاکرات کر سکیں۔ دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ صورتحال کی "بھرپور نگرانی” کر رہے ہیں، لیکن بازیابی کے لیے کسی خفیہ مذاکرات یا آپریشن کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مغوی ملاحوں میں سے ایک کے بھائی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم گزشتہ کئی ہفتوں سے سو نہیں سکے۔ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ کام کر رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ یہ غریب لوگ تھے جو صرف روزی کمانے نکلے تھے۔”
یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ مثال نہیں۔ برسوں کی خاموشی کے بعد، ہارن آف افریقہ میں بحری قزاقی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے۔ خطے میں عدم استحکام اور بحیرہ احمر میں موجود سکیورٹی چیلنجز کے باعث بحری گشت میں پیدا ہونے والے خلا کا فائدہ قزاق اٹھا رہے ہیں۔ ‘الکوثر’ کا عملہ اب ایک ایسے جغرافیائی سیاسی خلا میں پھنس چکا ہے جہاں نہ تو کوئی بڑا فوجی آپریشن نظر آتا ہے اور نہ ہی فوری رہائی کے امکانات۔
بحری امور کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی بحری افواج کی توجہ حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کی جانب مرکوز ہونے سے صومالی بیسن میں سکیورٹی کا روایتی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا ہے۔ قزاق اسی غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پانیوں میں واپس آ چکے ہیں جہاں ایک دہائی قبل ان کا راج تھا۔
عملہ اس وقت ساحل کے قریب ایک دور دراز کیمپ میں قید ہے۔ مذاکرات کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن موجود نہیں اور قزاقوں کے مطالبات میں شدت آتی جا رہی ہے۔ اہل خانہ اب صرف اس پیش رفت کے منتظر ہیں جو تاحال ایک خواب معلوم ہوتی ہے۔
