ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے ساتھ ہی ایک پرانا نعرہ دوبارہ گونج رہا ہے: "طاقت کے ذریعے امن”۔ یہ بیانیہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ امریکی عسکری قوت عالمی تنازعات کو حل کرنے کا حتمی ذریعہ ہے۔ تاہم، 2025 کی دنیا اس دنیا سے بالکل مختلف ہے جسے ٹرمپ 2021 میں چھوڑ کر گئے تھے۔ امریکی عسکری طاقت کی حدود اب صرف نظریاتی نہیں، بلکہ تین براعظموں پر عملی طور پر آزمائی جا رہی ہیں۔
یوکرین کا تنازعہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹرمپ نے لڑائی کو فوری ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن میدانِ جنگ کی حقیقتیں بدستور تلخ ہیں۔ دو سال کی شدید کشمکش نے ثابت کیا ہے کہ اگر حریف ایک ایٹمی طاقت ہو اور بھاری جانی نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار ہو، تو امریکی اسلحے کی بڑی کھیپ بھی فوری طور پر پانسہ نہیں پلٹ سکتی۔ امریکی دفاعی صنعت جدید جنگوں میں درکار توپ خانے کے گولوں کی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مختلف مگر اتنی ہی پیچیدہ ہے۔ امریکی فوج روایتی جنگ کے لیے بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، لیکن غیر روایتی خطرات کے سامنے یہ طاقت کند ثابت ہو رہی ہے۔ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے ہوں یا علاقائی پراکسیوں کو دی گئی دھمکیاں، ان اقدامات سے نہ تو عالمی جہاز رانی محفوظ ہوئی اور نہ ہی خطے میں استحکام آیا۔ ٹرمپ کی ٹیم پر یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ ماضی کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی اکثر مفاہمت کے بجائے کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتی ہے، خاص طور پر جب علاقائی کھلاڑی یہ جان چکے ہوں کہ امریکی عوام اب کسی بڑی زمینی جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔
عراق اور افغانستان کے تجربات نے عسکری کمانڈروں کے ذہنوں میں یہ بات پختہ کر دی ہے کہ عارضی عسکری برتری سٹریٹجک کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ ٹرمپ کے مشیر اب اس توازن کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں کہ عالمی سطح پر امریکی موجودگی کو کیسے برقرار رکھا جائے جبکہ ملکی ووٹرز سرحدوں اور معیشت پر توجہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بحیرہ جنوبی چین یا بحیرہ روم میں تعینات ہر امریکی بحری بیڑا دراصل کہیں اور سے وسائل کھینچنے کا نام ہے، اور پینٹاگون کے پاس اب کٹوتی کے لیے بہت کم گنجائش بچی ہے۔
چین کی تیزی سے جدید ہوتی ہوئی عسکری طاقت نے بحرالکاہل میں پورا حساب کتاب بدل دیا ہے۔ امریکی وار گیمز (جنگی مشقیں) اکثر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ تائیوان پر تنازعہ ایک تباہ کن اور طویل تکنیکی جنگ ثابت ہو سکتا ہے جس میں فتح کی کوئی ضمانت نہیں۔ امریکی فوج کی عالمی میدانوں میں بلا شرکت غیرے اجارہ داری کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ پر یہ واضح ہو رہا ہے کہ دنیا اب شطرنج کے مہروں کا کھیل نہیں رہی، بلکہ ایسے مفادات کا مجموعہ بن چکی ہے جو صرف طاقت کی دھمکی سے نہیں دبتے۔
ٹرمپ کا سفارتکاری کے لیے سودے بازی کا انداز یہ بتاتا ہے کہ وہ روایتی عسکری نمائش کے بجائے براہِ راست ڈیلز کو ترجیح دیں گے۔ لیکن سودے بازی کے لیے ‘لیوریج’ (دباؤ ڈالنے کی صلاحیت) درکار ہوتی ہے، جو اس وقت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اگر امریکہ اپنی شروع کی گئی جنگیں جیت نہیں سکتا اور دھمکی دی گئی جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، تو آنے والے چار سال امریکی طاقت کی مطلق العنان حیثیت کے افسانے کے زوال کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
