MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
بریکنگ نیوز

ٹرمپ اور امریکی عسکری طاقت کی حدود: ماضی کی جنگوں سے ملنے والے اسباق

Last updated: جولائی 17, 2026 10:50 شام
Haris Ali
Share
ٹرمپ اور امریکی عسکری طاقت کی حدود: ماضی کی جنگوں سے ملنے والے اسباق
ٹرمپ اور امریکی عسکری طاقت کی حدود: ماضی کی جنگوں سے ملنے والے اسباق
SHARE

ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے ساتھ ہی ایک پرانا نعرہ دوبارہ گونج رہا ہے: "طاقت کے ذریعے امن”۔ یہ بیانیہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ امریکی عسکری قوت عالمی تنازعات کو حل کرنے کا حتمی ذریعہ ہے۔ تاہم، 2025 کی دنیا اس دنیا سے بالکل مختلف ہے جسے ٹرمپ 2021 میں چھوڑ کر گئے تھے۔ امریکی عسکری طاقت کی حدود اب صرف نظریاتی نہیں، بلکہ تین براعظموں پر عملی طور پر آزمائی جا رہی ہیں۔

یوکرین کا تنازعہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹرمپ نے لڑائی کو فوری ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن میدانِ جنگ کی حقیقتیں بدستور تلخ ہیں۔ دو سال کی شدید کشمکش نے ثابت کیا ہے کہ اگر حریف ایک ایٹمی طاقت ہو اور بھاری جانی نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار ہو، تو امریکی اسلحے کی بڑی کھیپ بھی فوری طور پر پانسہ نہیں پلٹ سکتی۔ امریکی دفاعی صنعت جدید جنگوں میں درکار توپ خانے کے گولوں کی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مختلف مگر اتنی ہی پیچیدہ ہے۔ امریکی فوج روایتی جنگ کے لیے بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، لیکن غیر روایتی خطرات کے سامنے یہ طاقت کند ثابت ہو رہی ہے۔ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے ہوں یا علاقائی پراکسیوں کو دی گئی دھمکیاں، ان اقدامات سے نہ تو عالمی جہاز رانی محفوظ ہوئی اور نہ ہی خطے میں استحکام آیا۔ ٹرمپ کی ٹیم پر یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ ماضی کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی اکثر مفاہمت کے بجائے کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتی ہے، خاص طور پر جب علاقائی کھلاڑی یہ جان چکے ہوں کہ امریکی عوام اب کسی بڑی زمینی جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔

عراق اور افغانستان کے تجربات نے عسکری کمانڈروں کے ذہنوں میں یہ بات پختہ کر دی ہے کہ عارضی عسکری برتری سٹریٹجک کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ ٹرمپ کے مشیر اب اس توازن کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں کہ عالمی سطح پر امریکی موجودگی کو کیسے برقرار رکھا جائے جبکہ ملکی ووٹرز سرحدوں اور معیشت پر توجہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بحیرہ جنوبی چین یا بحیرہ روم میں تعینات ہر امریکی بحری بیڑا دراصل کہیں اور سے وسائل کھینچنے کا نام ہے، اور پینٹاگون کے پاس اب کٹوتی کے لیے بہت کم گنجائش بچی ہے۔

چین کی تیزی سے جدید ہوتی ہوئی عسکری طاقت نے بحرالکاہل میں پورا حساب کتاب بدل دیا ہے۔ امریکی وار گیمز (جنگی مشقیں) اکثر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ تائیوان پر تنازعہ ایک تباہ کن اور طویل تکنیکی جنگ ثابت ہو سکتا ہے جس میں فتح کی کوئی ضمانت نہیں۔ امریکی فوج کی عالمی میدانوں میں بلا شرکت غیرے اجارہ داری کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ پر یہ واضح ہو رہا ہے کہ دنیا اب شطرنج کے مہروں کا کھیل نہیں رہی، بلکہ ایسے مفادات کا مجموعہ بن چکی ہے جو صرف طاقت کی دھمکی سے نہیں دبتے۔

ٹرمپ کا سفارتکاری کے لیے سودے بازی کا انداز یہ بتاتا ہے کہ وہ روایتی عسکری نمائش کے بجائے براہِ راست ڈیلز کو ترجیح دیں گے۔ لیکن سودے بازی کے لیے ‘لیوریج’ (دباؤ ڈالنے کی صلاحیت) درکار ہوتی ہے، جو اس وقت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اگر امریکہ اپنی شروع کی گئی جنگیں جیت نہیں سکتا اور دھمکی دی گئی جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، تو آنے والے چار سال امریکی طاقت کی مطلق العنان حیثیت کے افسانے کے زوال کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کا آغاز، وفاق میں کشمیریوں کی آواز بننے کا وعدہ بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کا آغاز، وفاق میں کشمیریوں کی آواز بننے کا وعدہ
Next Article کیتن اگروال کیس: والد کا ’مصروف فون‘ کا انکشاف، پولیس پر دوہرے معیار کا الزام کیتن اگروال کیس: والد کا ’مصروف فون‘ کا انکشاف، پولیس پر دوہرے معیار کا الزام
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
یورپی خلائی ایجنسی کا ’پروبا-3‘ مشن: مصنوعی گرہن کے ذریعے سورج کے رازوں کی تلاش
یورپی خلائی ایجنسی کا ’پروبا-3‘ مشن: مصنوعی گرہن کے ذریعے سورج کے رازوں کی تلاش
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 17, 2026
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال ختم، سپلائی لائن بحال
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال ختم، سپلائی لائن بحال
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اگست 17, 2026
چین کا ایشیا میں اثر و رسوخ، ٹرمپ کی ایران پر توجہ: امریکی خارجہ پالیسی میں تضاد
چین کا ایشیا میں اثر و رسوخ، ٹرمپ کی ایران پر توجہ: امریکی خارجہ پالیسی میں تضاد
تازہ ترین سیاست
اگست 17, 2026
کرسٹیانو رونالڈو کی ریٹائرمنٹ کا عندیہ: 2026 کا سیزن آخری ہو سکتا ہے
کرسٹیانو رونالڈو کی ریٹائرمنٹ کا عندیہ: 2026 کا سیزن آخری ہو سکتا ہے
تازہ ترین کھیل
اگست 17, 2026
یونان کے جزیرے خیوس میں دو آتشزدگیوں سے دو افراد ہلاک، سینکڑوں بے گھر
یونان کے جزیرے خیوس میں دو آتشزدگیوں سے دو افراد ہلاک، سینکڑوں بے گھر
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 17, 2026
اینڈرائیڈ 15 بیٹا 3: کوئیک سیٹنگز کے انٹرفیس میں بڑی تبدیلیاں
اینڈرائیڈ 15 بیٹا 3: کوئیک سیٹنگز کے انٹرفیس میں بڑی تبدیلیاں
Technology تازہ ترین
اگست 17, 2026

You Might Also Like

بریکنگ نیوز

پاک افغان طالبان مذاکرات ناکام ہوگئے، وزیر اطلاعات

By Aiza Uddin
بریکنگ نیوزسیاست

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب بغیر ہیلمٹ ای بائیک چلاتے ہوئے پکڑے گئے

By Ayan Ahmed
بریکنگ نیوز

آبنائے ہرمز دوبارہ کھل گئی، مگر کشیدگی برقرار

By Shabih Abbas
بریکنگ نیوز

وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

By Aiza Uddin
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?