کیتن اگروال کی موت کا معاملہ عوامی غم و غصے کا باعث بنتا جا رہا ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ نے پولیس کی جانب سے پیش کردہ حقائق کو مسترد کر دیا ہے۔ اس تنازع کا مرکزی نقطہ فون ریکارڈز ہیں، جن کے بارے میں کیتن کے والد راجیش اگروال کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کے بیٹے کے آخری لمحات کے بارے میں سچائی چھپانے کی کوشش کو بے نقاب کرتے ہیں۔
راجیش اگروال نے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ جس وقت پولیس کے مطابق کیتن کا فون بند یا ناقابلِ رسائی تھا، اس وقت وہ فون ’مصروف‘ تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈز ان تفتیشی افسران کے بیانات سے متصادم ہیں جنہوں نے اس واقعے کو ایک سادہ سا کیس قرار دے کر بند کرنے کی کوشش کی۔
"وہ ہمیں ایک ایسی کہانی پر یقین دلانا چاہتے ہیں جو حقائق سے میل نہیں کھاتی،” راجیش اگروال نے کہا۔ ان کا استدلال ہے کہ فون کی سرگرمی—جو ظاہر کرتی ہے کہ جب حکام فون کو غیر فعال بتا رہے تھے، تب اس سے کال کی گئی—اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو کوئی اور اس فون کو استعمال کر رہا تھا، یا پھر تفتیشی ٹیم نے جان بوجھ کر اہم شواہد کو نظر انداز کیا۔
متاثرہ خاندان اب ڈیجیٹل شواہد کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس اس کیس میں دوہرا معیار اپنا رہی ہے؛ ایک طرف کیس کو جلد از جلد بند کرنے کی جلدی ہے تو دوسری طرف ان شواہد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے جو کسی بڑی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اس کیس پر نظر رکھنے والے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فون لاگز میں تضاد ابتدائی رپورٹ کو دوبارہ جانچنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اگر ڈیوائس اس وقت فعال تھی جب اسے خاموش ہونا چاہیے تھا، تو واقعے کی پوری ٹائم لائن اپنی بنیاد کھو دیتی ہے۔
اہل خانہ اور مقامی کارکنوں کے مسلسل دباؤ کے باوجود پولیس حکام نے تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ منگل کی شب جاری ہونے والے ایک مختصر سرکاری بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ "تفتیش معیاری پروٹوکول کے مطابق جاری ہے،” لیکن اس میں ان مخصوص ٹائم اسٹیمپڈ لاگز کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خاندان نے عوامی سطح پر اٹھائے ہیں۔
اگروال خاندان کے لیے یہ صرف ایک طریقہ کار کی غلطی نہیں، بلکہ انہیں یقین ہے کہ تفتیش کے پہلے دن سے ہی بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ وہ اب ان شواہد کو اعلیٰ حکام تک لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ کیس کسی غیر جانبدار ادارے کے حوالے کیا جائے، اس سے پہلے کہ مزید شواہد ضائع یا ختم کر دیے جائیں۔
جیسے جیسے خاندان میڈیا کے سامنے مزید دستاویزات لانے کی تیاری کر رہا ہے، یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا پولیس ان تضادات کا جواب دے گی یا اپنے موقف پر ڈٹی رہے گی۔ جب تک یہ وضاحت نہیں آتی، اس کیس کے بارے میں عوامی تاثر ایک المناک حادثے سے بدل کر ایک ممکنہ کور اپ (سازش) کی طرف مڑ رہا ہے۔
