پاکستان کے توانائی کے شعبے نے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے مقامی ریفائنریز کو یورو-5 معیار کا ایندھن تیار کرنے کے لیے انفراسٹرکچر اپ گریڈ کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کا بنیادی مقصد لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی زہریلی دھند (سموگ) میں کمی لانا ہے۔
برسوں تک مقامی ریفائنریز فرسودہ ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی رہیں، جس سے تیار ہونے والا ایندھن جدید ماحولیاتی معیارات پر پورا نہیں اترتا تھا۔ نئی پالیسی نے اس صورتحال کو بدلنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ریفائنریز کو اپنے پلانٹس کو جدید بنانے کے لیے سخت ڈیڈ لائن دی گئی ہے؛ ان معیارات پر پورا نہ اترنے والی ریفائنریز کے لائسنس منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔
اس اقدام کے مضمرات صرف صاف ہوا تک محدود نہیں۔ پاکستان کا مہنگا اور اعلیٰ درجے کا ایندھن درآمد کرنا ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر مسلسل بوجھ رہا ہے۔ مقامی سطح پر یورو-5 کی پیداوار سے نہ صرف درآمدی بل میں کمی متوقع ہے بلکہ فضائی آلودگی سے جڑی طبی اخراجات میں بھی کمی آئے گی، جو اس وقت قومی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ نگل رہے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم صرف ماحولیاتی تعمیل نہیں دیکھ رہے، ہم بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ریفائنریز کو معلوم تھا کہ یہ وقت آنا ہے۔ اب رعایت کا دور ختم ہو چکا ہے۔”
تاہم، ریفائنری مالکان محتاط ہیں۔ پروسیسنگ یونٹس کو جدید بنانا بھاری سرمایہ کاری کا متقاضی ہے—جس پر کروڑوں ڈالر لاگت آ سکتی ہے—اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روپیہ غیر مستحکم ہے اور قرضے مہنگے ہیں۔ صنعت سے وابستہ کچھ حلقوں نے نجی طور پر سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت اس منتقلی کے لیے درکار مشینری کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ یا ڈیوٹی میں رعایت دے گی۔
یہ تبدیلی پاکستان کو ان علاقائی ہمسایہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیتی ہے جنہوں نے ایک دہائی قبل ہی صاف ایندھن کے معیارات اپنا لیے تھے۔ یہ ایک دیر سے اٹھایا گیا، مگر ناگزیر قدم ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سموگ موسمی صحت کا بحران بن چکی ہو، یورو-5 کی جانب منتقلی آلودگی کی علامات کے بجائے اس کی جڑ پر وار کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔
ریفائنریز کو اپنے تفصیلی ٹرانزیشن پلان جمع کرانے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر وہ نئے معیارات پر پورا اترنے میں ناکام رہیں تو حکومت بھاری پیداواری جرمانے عائد کرے گی—یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کم معیار اور زیادہ اخراج والے ایندھن کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔
