مجرمانہ گروہ اور انتہا پسند تنظیمیں اب روایتی بینکنگ نظام کو چکمہ دینے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کر رہی ہیں۔ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی سہولت، جو کبھی صارفین کی پرائیویسی کے لیے بنائی گئی تھی، اب منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈھال بن چکی ہے۔
انٹیلی جنس اداروں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، غیر قانونی رقوم کی منتقلی کا طریقہ کار تبدیل ہو چکا ہے۔ ماضی میں حوالہ یا نقد رقم کی دستی منتقلی پر انحصار کرنے والے گروہ اب واٹس ایپ کے ذریعے اپنے نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ یہ گروہ ‘ڈسپیئرنگ میسجز’ (غائب ہو جانے والے پیغامات) کا فیچر استعمال کرتے ہیں، جس سے ٹرانزیکشن کی ہدایات اور کوڈز کا کوئی ڈیجیٹل ریکارڈ باقی نہیں رہتا۔
یہ صورتحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ چونکہ واٹس ایپ کی انکرپشن کی وجہ سے ان پیغامات کے مواد تک رسائی تقریباً ناممکن ہے، اس لیے تفتیشی ادارے ڈیجیٹل ہدایات کو روکنے کے بجائے صرف وقوعہ کے بعد بھاگ دوڑ کرنے پر مجبور ہیں۔
ایک سائبر سیکیورٹی ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ چوہے بلی کا کھیل ہے۔ جب تک تفتیشی ادارے کسی مشتبہ سرگرمی کو ٹریس کرتے ہیں، پیغام غائب ہو چکے ہوتے ہیں، رقم منتقل ہو چکی ہوتی ہے اور استعمال ہونے والے اکاؤنٹس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جاتا ہے۔”
یہ طریقہ کار عالمی مالیاتی ریگولیٹرز کے لیے ایک نئی مشکل پیدا کر رہا ہے۔ بڑے بینکوں کے برعکس، جو ‘نو یور کسٹمر’ جیسے سخت پروٹوکولز پر عمل کرتے ہیں، واٹس ایپ کے ذریعے ہونے والی یہ ٹرانزیکشنز مکمل طور پر ریگولیٹڈ نظام سے باہر ہیں۔ رقوم کی چھوٹی اور بکھری ہوئی منتقلی بینکنگ کے خودکار الگورتھمز کی نظر میں نہیں آتی، جس سے ان کی نشاندہی کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ گروہ اب ڈارک ویب کی تاریک گلیوں کے بجائے عام لوگوں کے زیرِ استعمال پلیٹ فارمز کا سہارا لے رہے ہیں۔ ایک پیغام جس میں 5 ہزار ڈالر کی منتقلی کی ہدایت ہو، دیکھنے میں عام گھریلو پیغام جیسا ہی لگتا ہے، جو اسے ایک بہترین چھلاوا فراہم کرتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اب ڈیجیٹل مداخلت کے بجائے ہیومن انٹیلی جنس اور زمینی نگرانی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ تاہم، جیسے جیسے یہ گروہ اپنی تکنیکی مہارت بڑھا رہے ہیں، کسی بھی بڑی ٹرانزیکشن کو منزل تک پہنچنے سے پہلے روکنے کا وقت کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔
اس وقت تفتیشی اداروں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ان چیٹس کی انکرپشن ہے۔ جب تک ان پیغامات کے مواد یا میٹا ڈیٹا تک رسائی کا کوئی قانونی راستہ نہیں نکلتا، ان نیٹ ورکس کی اصل جڑیں اور مالیاتی حجم کا تعین کرنا ایک حل طلب سوال ہی رہے گا۔
