پنجاب میں جانوروں پر ظلم کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک شخص کو ایک بڑے جانور کی زبان کاٹنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر صوبے میں جانوروں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملزم ایک لوڈر رکشے میں چارہ لے جا رہا تھا کہ راستے میں جانور نے اس میں سے کچھ چارہ کھا لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے طیش میں آ کر درانتی سے جانور کی زبان کاٹ دی۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی پولیس نے کارروائی کی اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان میں جانوروں پر تشدد کے متعدد واقعات پہلے ہی عوامی غم و غصے کا باعث بن چکے ہیں۔ پنجاب کے مختلف علاقوں سے گدھوں، اونٹوں، بھینسوں، چڑیا گھروں کے جانوروں اور آوارہ کتوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے بعد جانوروں کے تحفظ کے قوانین اور ان پر عمل درآمد کے نظام پر سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔
اگرچہ جانوروں پر ظلم کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے۔ قانون اور عملی کارروائی کے درمیان یہی فرق جانوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کی بڑی شکایت رہا ہے۔ پہلے بھی ایسے کئی واقعات عوامی تشویش میں اضافہ کر چکے ہیں، جبکہ پاکستان کے بعض چڑیا گھروں میں جانوروں کی حالت پر بھی مسلسل تنقید ہوتی رہی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف ایک واقعے کا نہیں، بلکہ رویّوں کا ہے۔ معمولی باتوں پر جانوروں کو تشدد کا نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں جانوروں کے ساتھ ہمدردی اور قانونی خوف، دونوں کمزور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئے واقعے کے بعد یہ سوال پھر اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ آخر جانوروں پر ظلم کو سنجیدہ جرم کب سمجھا جائے گا۔
