امریکہ نے یونیسیف، گاوی اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے لیے مالی معاونت خاموشی سے بحال کر دی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی وہ عارضی پابندی ختم ہو گئی ہے جس نے دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں صحت اور خوراک کے اہم منصوبوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا۔
یہ پیش رفت بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور ماہرینِ صحت کے شدید دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان حلقوں نے خبردار کیا تھا کہ امریکی فنڈز کی بندش سے نہ صرف معمول کی ویکسینیشن مہمات رک سکتی ہیں بلکہ ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی فراہمی کا نظام بھی درہم برہم ہو جائے گا۔ محکمہ خارجہ کے حکام نے بدھ کی رات اس تبدیلی کی تصدیق تو کی، مگر جاری کی گئی رقم کی تفصیلات یا فنڈز روکنے کی اصل وجوہات پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔
فنڈز کی اس بندش نے عالمی امدادی اداروں کو سخت بحرانی کیفیت سے دوچار کر دیا تھا۔ یونیسیف اور ‘گاوی’ ویکسین الائنس، پولیو اور خسرہ جیسی بیماریوں کے خاتمے کے لیے امریکی گرانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ فنڈز رکنے سے سپلائی چین متاثر ہوئی؛ افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی حصوں میں مقامی ہیلتھ ورکرز کو حفاظتی ٹیکوں کی مہمات ملتوی کرنا پڑیں، جس سے لاکھوں بچوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔
صحت کے علاوہ ورلڈ فوڈ پروگرام کو خوراک کی ترسیل میں رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ عالمی سطح پر خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور تنازعات کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کی ریکارڈ تعداد کے پیشِ نظر، اس ادارے کو اناج پہنچانے کے لیے امریکی فنڈز درکار ہوتے ہیں۔ مالی معاونت معطل ہونے کا مطلب یہ تھا کہ قحط زدہ علاقوں میں امدادی ٹرکوں کی تعداد کم ہو گئی اور ڈسٹری بیوشن سینٹرز خالی پڑ گئے۔
بائیڈن انتظامیہ کا فنڈز بحال کرنے کا فیصلہ ایک ایسی پالیسی سے پیچھے ہٹنے کی کوشش ہے جو امریکہ کے لیے سفارتی سطح پر بوجھ بن رہی تھی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ان اداروں سے تعلق توڑنے سے امریکی اثر و رسوخ کم ہوا اور اس خلا کو دیگر عالمی طاقتوں نے پُر کرنے کی کوشش کی۔
تاہم، اس واقعے نے عالمی پارٹنرز میں ایک بے چینی پیدا کر دی ہے۔ امدادی تنظیمیں اب واشنگٹن کی بجٹ پالیسیوں کے غیر یقینی پن کو دیکھتے ہوئے اپنے مالیاتی انحصار پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ لاکھوں لوگوں کے لیے یہ فیصلہ سفارتکاری نہیں بلکہ بقا کا سوال ہے۔ اب جبکہ فنڈز کی بحالی کے بعد ادارے تعطل کا شکار منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ رقم جلد از جلد ان کلینکس اور مراکز تک پہنچے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
