کوئٹہ — میر رضا کی گمشدگی اور بعد ازاں قتل کے کیس میں تفتیش کا رخ اس وقت مڑ گیا جب سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مقتول کو لاپتہ ہونے سے کچھ دیر قبل پستول اٹھائے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ ویڈیو اب پولیس کی تحقیقات کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے اور اس نے واقعے سے متعلق ابتدائی بیانات کو نئے سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
شہر کے ایک مصروف علاقے میں نصب کیمرے سے حاصل ہونے والی اس فوٹیج میں میر رضا کو اکیلے چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں موجود اسلحہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، فوٹیج کا ٹائم اسٹیمپ ان گھنٹوں سے مطابقت رکھتا ہے جو ان کی گمشدگی سے ٹھیک پہلے گزرے۔
اس دریافت نے پہلے سے جاری کشیدہ تحقیقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ورثاء اس سے قبل ہی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے میر رضا کو ملنے والی دھمکیوں کا ذکر کر چکے ہیں۔ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے اس زاویے پر کام کر رہے ہیں کہ آیا مقتول کسی ممکنہ تصادم کی توقع کر رہے تھے یا یہ اسلحہ کسی معروف خطرے کے پیش نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر ساتھ رکھا گیا تھا۔
تحقیقات سے منسلک ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم فوٹیج کا باریکی سے تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ ان کے راستے کا تعین کیا جا سکے۔ اسلحے کی موجودگی نے تفتیش کا دائرہ کار بدل دیا ہے۔ اب معاملہ صرف ایک گمشدگی کا نہیں، بلکہ اس محرک کو تلاش کرنے کا ہے جس کی وجہ سے یہ ممکنہ تصادم پیش آیا۔”
پولیس تاحال وہ پستول برآمد نہیں کر سکی اور نہ ہی یہ تعین ہو سکا ہے کہ فوٹیج میں نظر آنے کے بعد میر رضا کس مقام کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ فرانزک ٹیمیں علاقے کے دیگر کیمروں کی ریکارڈنگز بھی کھنگال رہی ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کا حتمی راستہ معلوم کیا جا سکے۔
اس کیس نے صوبے بھر میں توجہ حاصل کر رکھی ہے اور مقامی حلقے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل تحقیقات میں پیش رفت سست روی کا شکار تھی کیونکہ اس علاقے میں جہاں میر رضا آخری بار دیکھے گئے، کوئی عینی شاہد موجود نہیں تھا۔ یہ نئی بصری شہادت ان کے آخری لمحات کا پہلا ٹھوس ٹائم لائن فراہم کرتی ہے۔
فی الحال تفتیش جاری ہے۔ پولیس جلد ہی مقتول کے قریبی ساتھیوں کو دوبارہ پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ میر رضا کس سے ملنے جا رہے تھے اور انہیں مسلح ہونے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
