کینیڈا کے جنگلات میں لگی آگ اس سال صرف درختوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا دھواں ہزاروں میل دور شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتا رہا۔ آگ کا سیزن اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، مگر اعداد و شمار اب ایک ہولناک حقیقت سامنے لا رہے ہیں۔ کینیڈا میں اس سال 15 ملین ہیکٹر سے زائد رقبہ خاکستر ہو چکا ہے، جس نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور فائر فائٹنگ کے وسائل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
بہت سے لوگوں کے لیے اس بحران کی شدت کا اندازہ اس وقت ہوا جب نیویارک، شکاگو اور یورپ تک کے آسمان دھوئیں سے نارنجی ہو گئے۔ یہ صرف دور دراز شمالی علاقوں کی ہنگامی صورتحال نہیں تھی، بلکہ یہ ایک براعظمی سطح کا ماحولیاتی بحران بن چکا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکام اب اپنی تیاریوں کے حوالے سے سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کینیڈین مسلح افواج کو دور دراز علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے تعینات کرنا پڑا۔ یہ اقدام اب ایک استثنائی صورتحال کے بجائے سالانہ ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ ایک تجربہ کار فاریسٹ ٹیکنیشن نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم ایسی آگ سے لڑ رہے ہیں جو ہماری پیش گوئی سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ پیچھے صرف بنجر زمین بچتی ہے جہاں دوبارہ جنگل بننے میں دہائیاں لگیں گی۔”
ماحولیاتی نقصان کے ساتھ ساتھ معاشی بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ انشورنس کمپنیاں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہی ہیں، جس کا بل اربوں ڈالر تک جانے کا امکان ہے۔ فوری جائیداد کے نقصان سے ہٹ کر، کینیڈا کی معیشت کا اہم ستون یعنی لکڑی کی صنعت بھی شدید متاثر ہوئی ہے، جہاں لاکھوں کیوبک میٹر لکڑی ضائع ہو چکی ہے۔
کینیڈین انٹرایجنسی فاریسٹ فائر سینٹر کے اعداد و شمار تصدیق کرتے ہیں کہ اگرچہ آگ لگنے کے واقعات کی تعداد غیر معمولی نہیں تھی، لیکن آگ کی شدت اور پھیلاؤ نے تمام حدود پار کر لیں۔ موسم سرما میں معمول سے کم برف باری اور خشک سالی نے جنگلات کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ اب خشک علاقوں میں بجلی گرنے کا ایک واقعہ ایسی آگ کو جنم دیتا ہے جو ہفتوں تک جاری رہتی ہے اور عملہ پہنچنے سے پہلے ہی لاکھوں ہیکٹر رقبہ راکھ کر دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ کے انتظام کا موجودہ ماڈل فرسودہ ہو چکا ہے۔ ماضی میں توجہ صرف آگ بجھانے پر مرکوز رہی، لیکن اب کنٹرولڈ برننگ اور بہتر جنگلات کے انتظام کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ایندھن (سوکھے درختوں) کی مقدار کو کم کیا جا سکے۔ وفاقی حکومت نے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور فضائی وسائل بڑھانے کے لیے فنڈز کا وعدہ کیا ہے، تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ ایک نظامی ماحولیاتی مسئلے کا وقتی اور سطحی حل ہے۔
جیسے جیسے دھواں چھٹ رہا ہے، بحث ہنگامی ردعمل سے نکل کر طویل مدتی موافقت کی طرف مڑ گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشی اب یہ نہیں پوچھ رہے کہ کیا انہیں نقل مکانی کرنی پڑے گی، بلکہ سوال یہ ہے کہ کب کرنی پڑے گی۔ لاکھوں کینیڈین شہریوں کے لیے، آگ کے خطرے کے سائے میں جینا اب ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
