وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے تصدیق کی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا دیرینہ مطالبہ اگلے ماہ پارلیمنٹ کے ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں انتظامی تقسیم کا مطالبہ ایک بار پھر سیاسی مرکز نگاہ بن چکا ہے۔
وزیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسے انتظامی بہتری کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا، تاہم انہوں نے قانون سازی کے کسی حتمی روڈ میپ کا ذکر نہیں کیا۔ یہ مبہم مؤقف اپوزیشن کے لیے سوالات کا باعث بن رہا ہے کہ آیا یہ محض ایک سیاسی بیان ہے یا حکومت واقعی آئینی پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لیے تیار ہے۔
صوبائی خودمختاری کا مطالبہ برسوں سے ملکی سیاست کا اہم حصہ رہا ہے۔ حامیوں کا ماننا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس عوامی مسائل کے حل میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس مطالبے کی آڑ میں سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اگلی انتخابی مہم میں مخصوص علاقوں سے ووٹ بینک کو مضبوط کیا جا سکے۔
آئینی اعتبار سے نیا صوبہ بنانا ایک کٹھن عمل ہے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی اسی رکاوٹ نے کئی بار اس عمل کو تعطل کا شکار کیا ہے۔ اگر حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ وسیع تر اتفاق رائے پیدا نہ کیا تو یہ بحث محض ایک روایتی سیاسی گرما گرمی بن کر رہ جائے گی۔
آئینی ماہرین کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حدود میں تبدیلی محض ایک ووٹ کا معاملہ نہیں رہا۔ اس کے لیے مالیاتی منتقلی اور انتظامی کنٹرول کی دوبارہ تقسیم ناگزیر ہے، جس کے لیے موجودہ وفاقی ڈھانچے میں ہم آہنگی کا فقدان پایا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن نے ایوان میں ایک ہنگامہ خیز سیشن کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومتی بینچز اپوزیشن کو قائل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس فارمولا پیش کر پائیں گے یا یہ معاملہ صرف تقاریر تک محدود رہے گا۔ جب تک کوئی باقاعدہ بل ایوان میں پیش نہیں ہوتا، اس بحث کی سنجیدگی پر سوالات برقرار رہیں گے۔
