ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال آج تیسرے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث تجارتی مراکز پر ہزاروں ٹرک کھڑے ہیں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔
تعطل کی بنیادی وجہ ودہولڈنگ ٹیکسوں میں حالیہ اضافہ اور ایکسل لوڈ ریگولیشنز کا نفاذ ہے۔ ٹرانسپورٹ یونینز کا موقف ہے کہ یہ ٹیکس چھوٹے آپریٹرز کی کمر توڑنے کے مترادف ہیں، جس سے نہ صرف کاروبار غیر منافع بخش ہو گیا ہے بلکہ عام صارف کے لیے اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان میر محمد نے کہا کہ "ہم تصادم نہیں چاہتے، لیکن نقصان برداشت کر کے کاروبار چلانا ناممکن ہے۔” انہوں نے تصدیق کی کہ وفاقی وزراء کے ساتھ ہونے والی تازہ ترین ملاقات میں انہیں کوئی ریلیف نہیں ملا، جس کے بعد پہیہ جام ہڑتال کو جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔
سپلائی چین پر دباؤ کے اثرات اب نمایاں ہونے لگے ہیں۔ بڑے شہروں کی ہولناک منڈیوں میں سبزیوں اور پھلوں کی آمد میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ریٹیلرز کو خدشہ ہے کہ ایندھن کے اخراجات اور اسٹاک کی قلت کے باعث اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس اقدامات ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور معیشت کی بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔ حکومتی ترجمان نے ہڑتال کو "غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یونین لیڈر عوام کی خوراک کی فراہمی کو داؤ پر لگانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔
حکومتی سخت موقف کے باوجود ہڑتال ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ٹرانسپورٹرز نے دھمکی دی ہے کہ اگر ہفتے کے آخر تک مطالبات نہ مانے گئے تو وہ احتجاج کا دائرہ کار بڑھا کر بندرگاہوں کو بھی بلاک کر سکتے ہیں۔
وزارت مواصلات کی جانب سے تاحال کسی نئے مذاکراتی دور کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ملک کی مرکزی شاہراہیں بند ہونے اور کسی سمجھوتے تک نہ پہنچنے کے باعث، اس تعطل کا بوجھ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے کھاتوں سے نکل کر اب براہِ راست عام شہریوں کی جیبوں پر منتقل ہو رہا ہے۔
