موسمیاتی تباہ کاریاں: عالمی معیشت کے لیے نیا اور مہنگا چیلنج
شدید گرمی، جنگلات کی آگ اور تباہ کن سیلاب اب صرف ماحولیاتی مسائل نہیں رہے، بلکہ عالمی معیشت کی کمر توڑنے والے عوامل بن چکے ہیں۔ دنیا بھر میں کاروبار، رسد کا نظام اور حکومتیں ان موسمیاتی تبدیلیوں کی بھاری قیمت ادا کر رہی ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں زراعت اس کا پہلا شکار ہے۔ غیر متوقع بارشیں اور گرمی کی لہریں فصلوں کی پیداوار کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں، جس کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔ جب گندم یا کپاس کی فصل تباہ ہوتی ہے، تو یہ صرف کسان کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ ملک کی برآمدات اور غذائی تحفظ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوتا ہے۔
صنعتی مراکز کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں سیلاب ہوں یا امریکہ اور یورپ میں جنگلات کی آگ، فیکٹریاں بند ہونے سے عالمی منڈیوں میں خام مال کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ افراطِ زر میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیاں اب موسمیاتی آفات کو "غیر متوقع حادثات” کے بجائے "مستقل کاروباری اخراجات” کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
بیمہ کمپنیاں بھی اب محتاط ہو چکی ہیں۔ زیادہ خطرے والے علاقوں میں انشورنس پریمیم کی شرح آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ بہت سی کمپنیاں اب ان علاقوں میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں جہاں قدرتی آفات کا خطرہ زیادہ ہے۔ یہ معاشی جمود ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جو پہلے ہی بجٹ خسارے کا شکار ہیں۔
حکومتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ہنگامی امداد پر خرچ کریں یا طویل مدتی انفراسٹرکچر پر۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر ممالک اب بھی صرف تباہی کے بعد بحالی کے کاموں پر اربوں ڈالر ضائع کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ابھی بھی ضرورت سے بہت کم ہے۔
اگر دنیا نے موسمیاتی تبدیلیوں کو معاشی پالیسیوں کا مرکز نہ بنایا، تو یہ "موسمیاتی ٹیکس” آنے والے برسوں میں معاشی ترقی کی رفتار کو مزید سست کر دے گا۔ سوال یہ نہیں کہ تباہی کب آئے گی، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے لیے کتنے تیار ہیں۔ فی الحال، جواب مایوس کن ہے۔
