کراچی میں ایک مقامی تاجر کے قتل کی تحقیقات اس وقت ایک افسوسناک موڑ پر پہنچ گئیں جب پولیس نے مقتول کے اپنے بیٹے کو ہی اس قتل کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دے دیا۔
تفتیشی حکام نے مقتول کے بیٹے کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے جائیداد کے تنازع پر اپنے والد کو قتل کروانے کے لیے پیشہ ور قاتلوں کی خدمات حاصل کیں۔ مقتول، جو گلشنِ اقبال کا رہائشی تھا، گزشتہ ہفتے اپنے گھر کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر اسے ڈکیتی مزاحمت کا واقعہ سمجھا گیا، لیکن پولیس کو تب شبہ ہوا جب تفتیش کے دوران مقتول کے بیٹے کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔
اس کیس سے منسلک ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ "گواہوں کے بیانات کے مقابلے میں ڈیجیٹل شواہد زیادہ ٹھوس ثابت ہوئے۔” فرانزک ٹیموں نے ملزم کے موبائل فون سے ایسی خفیہ پیغامات برآمد کیے ہیں جن میں قاتلوں کو دی گئی رقوم اور فرار کے راستوں کی تفصیلات موجود ہیں۔
پولیس کے مطابق قتل کی وجہ جائیداد کی تقسیم کا دیرینہ تنازع ہے۔ ملزم مبینہ طور پر کئی ماہ سے اپنے والد پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ زمین کے کاغذات اس کے نام منتقل کر دیں، جس پر دونوں کے درمیان اکثر تکرار ہوتی تھی۔ یہ تلخی بالآخر ایک سوچے سمجھے قتل پر منتج ہوئی۔
کراچی میں ایک سال کے اندر یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں قتل کی تحقیقات مقتول کے اپنے ہی گھر تک جا پہنچی ہیں۔ گزشتہ اکتوبر میں بھی ضلع وسطی میں ایک ایسا ہی مقدمہ سامنے آیا تھا، جہاں داماد نے مقتول کے بچوں کے ساتھ مل کر ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا جو بعد میں قتل میں بدل گیا۔
ملزم اس وقت مقامی تھانے میں زیرِ حراست ہے، جہاں اس پر قتلِ عمد اور سازش کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ پولیس اب ان دو شوٹرز کی تلاش میں ہے جو واردات کے بعد موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے تھے۔
مقتول کے اہل خانہ کے لیے یہ گرفتاری صدمے کا ایک نیا باب ہے، لیکن کراچی پولیس کے لیے یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو شہر میں ہونے والے سٹریٹ کرائم کی آڑ میں چھپے گھریلو تنازعات کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔
