سندھ حکومت نے مون سون کے متوقع شدید بارشوں کے پیشِ نظر صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ یہ فیصلہ محکمہ موسمیات کی جانب سے صوبے میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کے بعد کیا گیا ہے، جس میں کراچی کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال اور دیہی علاقوں کے انفراسٹرکچر کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سندھ سیکریٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں موسم کے علاوہ خوراک کی فراہمی پر بھی کڑی نظر رکھی گئی۔ چیف سیکریٹری نے گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشکوک گوداموں پر چھاپے ماریں تاکہ بارشوں کے دوران سپلائی چین متاثر ہونے سے قبل آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔
اجلاس میں شریک ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ "ہم ایک وقت میں دو بحرانوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہماری اولین ترجیح بارشوں کے دوران رسد کے راستوں کو کھلا رکھنا ہے۔”
انتظامیہ نے صوبے بھر کے آبپاشی کے نیٹ ورک اور شہری نکاسی آب کے نظام میں کئی ‘حساس مقامات’ کی نشاندہی کی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے نشیبی علاقوں میں بھاری مشینری کی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ نالوں کی صفائی اور ان کی فعالیت برقرار رکھنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
چیف سیکریٹری نے واضح کر دیا ہے کہ برساتی نالوں کی صفائی یا گندم کے ذخائر کی نگرانی میں غفلت برتنے والے افسران کو معطل کر دیا جائے گا۔
اب جبکہ مون سون کے بادل گرج رہے ہیں، حکومت کے سامنے دو بڑے چیلنجز ہیں۔ ایک جانب شہروں کو ڈوبنے سے بچانا اور دوسری جانب خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ گندم کی قیمتیں پہلے ہی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے لیے حساس ہیں، ایسے میں ان چھاپوں کی کامیابی ہی طے کرے گی کہ صوبہ ایک منظم سیزن گزارتا ہے یا مصنوعی قلت کا شکار ہوتا ہے۔
