کوماموتو، جاپان — جنوبی جاپان میں آج صبح آنے والے شدید زلزلے نے سترہویں صدی کے تاریخی کوماموتو قلعے کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔
زلزلہ طلوعِ آفتاب کے فوراً بعد کوماموتو پریفیکچر میں محسوس کیا گیا۔ جھٹکوں کے باعث قلعے کی قدیم پتھریلی دیواروں سے ملبہ گرا اور مرکزی عمارت کی چھت کے کچھ ٹائلز ٹوٹ گئے۔ انتظامیہ نے فوری طور پر قلعے کو خالی کروا کر آس پاس کے علاقے کو سیل کر دیا ہے تاکہ عمارت کی ساختی مضبوطی کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ قلعہ 2016 کے تباہ کن زلزلے کے بعد طویل بحالی کے عمل سے گزر چکا ہے۔
شہری حکام کے مطابق، قلعے کا مرکزی حصہ فی الحال محفوظ دکھائی دیتا ہے، تاہم بیرونی دیواروں میں نئی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ حصوں کی مرمت کا کام ابھی بھی جاری تھا۔
شہر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ "ہم اس وقت پتھر کے کام کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح عملے اور سیاحوں کی حفاظت ہے۔”
مقامی لوگوں کے لیے یہ قلعہ محض ایک سیاحتی مقام نہیں، بلکہ شہر کی ہمت اور بحالی کی علامت ہے۔ 2016 کے زلزلے میں قلعے کی دیواریں گر گئی تھیں، جو اس وقت کی تباہی کی سب سے بڑی نشانی بن گئی تھیں۔ اربوں ین کی لاگت سے کئی برسوں کی محنت کے بعد، اس قلعے کو 2021 میں دوبارہ عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔
ماہرینِ ارضیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید آفٹر شاکس آ سکتے ہیں۔ جاپان کی محکمہ موسمیات نے سونامی کی وارننگ جاری نہیں کی، تاہم پورے علاقے میں ہائی الرٹ برقرار ہے اور بنیادی ڈھانچے کی جانچ کا عمل جاری ہے۔
قلعے کے دروازے فی الحال بند کر دیے گئے ہیں۔ انجینئرز کی ٹیم آج سہ پہر تک اپنی رپورٹ مکمل کرے گی، جس سے یہ واضح ہوگا کہ کیا قلعے کو طویل عرصے کے لیے بند کرنا پڑے گا یا نہیں۔
فی الحال، شہر کے باسی اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کا یہ تاریخی ورثہ ایک بار پھر اس آزمائش سے کیسے نکلتا ہے۔
