گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان اہم مشاورتی دور جاری ہے۔ دونوں جماعتیں خطے میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کلیدی آئینی عہدوں کی تقسیم پر متفق ہونے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ قانون سازی کے عمل میں تعطل کو روکا جا سکے۔
مذاکرات کا مرکزی نکتہ گورنر اور اسپیکر قانون ساز اسمبلی کے عہدے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ ملاقاتوں میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کے پیچیدہ انتظامی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے لیے گورنر کا عہدہ ترجیحی حیثیت رکھتا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، قیادت ایسے نام پر غور کر رہی ہے جو مقامی قبائلی توازن اور وفاقی نگرانی کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکے۔ دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) وفاقی اتحاد میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسپیکر کا عہدہ حاصل کرنے کی خواہاں ہے تاکہ اسمبلی کی کارروائی کو اپنی ترجیحات کے مطابق چلایا جا سکے۔
یہ پیش رفت خطے میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری سیاسی غیر یقینی صورتحال کے بعد سامنے آئی ہے۔ گلگت بلتستان کو بجٹ کے تنازعات اور سبسڈی میں کٹوتیوں کے خلاف شدید احتجاج کا سامنا رہا ہے، جس نے مقامی انتظامیہ کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان عہدوں پر مفاہمت کے ذریعے دونوں جماعتیں ناراض عوام کے سامنے ایک مستحکم حکومت کا تاثر پیش کرنا چاہتی ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ "ہم ایسے فارمولے پر کام کر رہے ہیں جو دونوں جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرے۔” انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات تعمیری ہیں، تاہم حتمی ناموں کا اعلان ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل خطے کے لیے درکار آئینی حقوق اور خود مختاری کے مطالبات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ گلگت بلتستان کو اب تک قومی پارلیمنٹ میں مکمل آئینی نمائندگی حاصل نہیں، اور مقامی کارکنان ان سیاسی جوڑ توڑ کو عوامی مسائل کے حل کے بجائے محض اقتدار کی تقسیم قرار دے رہے ہیں۔
وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ نئے مالی سال کا بجٹ سر پر ہے اور اسمبلی مزید سیاسی رسہ کشی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے رواں ہفتے کے اختتام تک کسی ٹھوس معاہدے کو حتمی شکل نہ دی، تو سیاسی خلا کے باعث گلگت میں ایک بار پھر احتجاج کی لہر اٹھ سکتی ہے، جو وفاقی حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔
معاہدہ چند روز میں متوقع ہے، تاہم پارٹی کے اندرونی دباؤ سے بچنے کے لیے ناموں کو فی الحال خفیہ رکھا گیا ہے۔ فی الحال گلگت بلتستان کی انتظامیہ اسلام آباد سے آنے والے حتمی اشارے کی منتظر ہے۔
