خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں پولیس نے ایک فرانسیسی خاتون کو بازیاب کروا لیا ہے، جس نے اپنے شوہر پر برسوں تک حبسِ بے جا میں رکھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
بدھ کے روز پولیس نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دور افتادہ علاقے میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا۔ بازیابی کے وقت خاتون کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، خاتون چند برس قبل شادی کے سلسلے میں پاکستان آئی تھیں، لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ان کا شوہر ان پر تشدد کرنے لگا۔
خاتون نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ انہیں گھر سے باہر نکلنے یا فرانس میں موجود اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کا پاسپورٹ اور سفری دستاویزات بھی شوہر نے چھین لی تھیں، جس کی وجہ سے وہ ایک ایسے علاقے میں محصور ہو کر رہ گئی تھیں جہاں ان کا کوئی سہارا نہیں تھا۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ملزم شوہر کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد میں موجود فرانسیسی سفارت خانے سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ خاتون کی واپسی کے قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
تحقیقات کی نگرانی کرنے والے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون کو فی الحال حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے اور سفارتی حکام کے ساتھ مل کر ان کی وطن واپسی کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔
پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات قانونی اور سماجی لحاظ سے انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں، خاص طور پر دور دراز دیہی علاقوں میں جہاں مقامی روایات اکثر بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات سے متصادم نظر آتی ہیں۔ اس واقعے نے صوبائی حکام کو متحرک کر دیا ہے اور تحقیقات کے شفاف عمل کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
علاقائی انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اکا دکا نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق، دیہی اور قدامت پسند ماحول میں تنہا رہ جانے والی غیر ملکی خواتین کے لیے مدد حاصل کرنے کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگرچہ خاتون اب محفوظ ہیں، لیکن ملزم کے خلاف قانونی جنگ ابھی شروع ہوئی ہے۔
خاتون فی الحال پشاور میں ایک محفوظ مقام پر موجود ہیں اور سفارتی حکام کی جانب سے وطن واپسی کے حتمی انتظامات کی منتظر ہیں۔
