اسلام آباد نے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے راستوں پر حوثی باغیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں کی باضابطہ مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ نے گزشتہ روز جاری کردہ بیان میں اس جارحیت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی استحکام کے لیے شدید خطرہ قرار دیا ہے۔
حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے جاری حملوں نے دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک کو جنگی زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان کے لیے—جو اپنی توانائی کی درآمدات اور یورپ کے ساتھ تجارت کے لیے بحیرہ احمر کے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے—یہ صورتحال صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ براہِ راست معاشی تشویش ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری کریں۔”
بیان میں خاص طور پر سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے ریاض کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی "غیر متزلزل حمایت” کا اعادہ کیا گیا۔ سفارتی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حوثی باغیوں نے خلیجی ممالک کے خلاف اپنی بیان بازی میں تیزی پیدا کر دی ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا ان جہازوں پر ڈرون اور میزائل حملے کر رہی ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل سے منسلک ہیں، حالانکہ ان حملوں کی زد میں وہ جہاز بھی آ رہے ہیں جن کا غزہ کی موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان حملوں کے باعث بڑی عالمی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کا رخ ‘کیپ آف گڈ ہوپ’ کی طرف موڑ دیا ہے، جس سے نہ صرف ترسیل میں ہفتوں کی تاخیر ہو رہی ہے بلکہ انشورنس کے اخراجات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ پاکستان کی عسکری قیادت کے سعودی سکیورٹی فورسز کے ساتھ دیرینہ اور قریبی تعلقات رہے ہیں، تاہم اسلام آباد کے حکام بحیرہ احمر میں گشت کرنے والے موجودہ میری ٹائم سکیورٹی اتحاد میں شامل ہونے سے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ اس مذمتی بیان کے ذریعے حکومت ایک باریک سفارتی لکیر پر چل رہی ہے: ایک طرف ریاض کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات کا بھرم رکھنا اور دوسری طرف خطے کی پراکسی جنگ میں براہِ راست عسکری شمولیت سے گریز کرنا۔
ان دھمکیوں کے حقیقی معاشی اثرات واضح ہیں۔ جیسے جیسے جہاز رانی کے اخراجات بڑھیں گے، ان کا بوجھ بالآخر عام صارف پر پڑے گا۔ اگر بحیرہ احمر کا راستہ مسلسل غیر محفوظ رہا، تو پاکستان کی پہلے سے کمزور معیشت پر افراطِ زر کا دباؤ مزید بڑھے گا۔
فی الحال دفتر خارجہ نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔ آیا یہ سفارتی دباؤ یمن کی زمینی صورتحال پر کوئی اثر ڈال سکے گا یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے۔
