کھٹمنڈو — نیپال کے وسطی اضلاع میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے کئی روز بعد بھی صورتحال سنگین ہے۔ متاثرین اپنے پیاروں کی تلاش میں کیچڑ اور ملبے کے ڈھیروں کو ہاتھوں سے کھودنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اموات کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اب تک 200 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں، لیکن کاورے پالن چوک اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کے لیے کام کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ مقامی پولیس اہلکار نے بتایا کہ "ہم ہر چند گھنٹے بعد ایک اور لاش نکال رہے ہیں۔ کیچڑ بہت بھاری اور گہرا ہے، اور ہمیں معلوم ہے کہ ابھی بھی بہت سے لوگ اس کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔”
یہ تباہی جمعہ کی شب اس وقت آئی جب شدید بارشوں کے بعد دریا بپھر گئے اور پہاڑی علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے سے بستیاں کی بستیاں ملبے تلے دب گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے بھاری مشینری وہاں تک پہنچانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
ریسکیو کا کام کرنے والے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ "حکومت کی جانب سے مدد کے وعدے تو کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں۔ سڑکیں بند ہیں اور ہم اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے پر مجبور ہیں۔”
وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے، لیکن مواصلاتی نظام کی تباہی اور پلوں کے بہہ جانے کے باعث امدادی ٹیموں کا متاثرین تک پہنچنا ایک بڑا امتحان ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر شام ہوتے ہی تلاش کا کام سست پڑ جاتا ہے۔
متاثرین کے لیے اب سب سے بڑا خوف بیماریوں کا پھیلاؤ اور خوراک کی قلت ہے۔ ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور مون سون کی بارشیں ابھی تھمی نہیں ہیں۔ جب تک ملبہ نہیں ہٹایا جاتا، اس سانحے کی اصل قیمت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، کیونکہ ہر گزرتا لمحہ ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچ جانے کی امیدوں کو مزید کم کر رہا ہے۔
