ایکسپیڈیا اس وقت ایک پیچیدہ قانونی جنگ میں پھنس چکا ہے۔ کیوبا نژاد امریکی خاندانوں کے ایک گروپ نے ٹریول کمپنی پر مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی نے 1959 کے انقلاب کے بعد کیوبا کی حکومت کی جانب سے ضبط کی گئی جائیدادوں پر ہوٹل بکنگ کے ذریعے منافع کمایا ہے۔
مقدمہ امریکی قانون ‘ہلمز-برٹن ایکٹ’ کے تحت دائر کیا گیا ہے۔ یہ قانون امریکی شہریوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ایسی کمپنیوں پر مقدمہ کر سکیں جو کیوبا کی حکومت کی جانب سے قبضے میں لی گئی جائیدادوں سے تجارتی فائدہ اٹھاتی ہیں۔ مدعی خاندانوں کا موقف ہے کہ ایکسپیڈیا نے ان کی آبائی زمینوں پر تعمیر شدہ ہوٹلوں کی بکنگ کر کے دراصل اس ضبطی کے عمل کو سہولت فراہم کی ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ محض کاروباری تنازع نہیں، بلکہ چھ دہائیوں قبل چھینی گئی ان کی ملکیت کا حق مانگنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایکسپیڈیا نے اپنی ویب سائٹ پر ان ہوٹلوں کو لسٹ کرتے وقت زمین کے متنازعہ ہونے کے قانونی پہلو کو نظر انداز کیا اور اپنے منافع کو ترجیح دی۔
دوسری جانب ایکسپیڈیا کا موقف روایتی دفاع پر مبنی ہے۔ کمپنی خود کو صرف ایک "نیوٹرل پلیٹ فارم” قرار دیتی ہے جو مسافروں کو ہوٹلوں سے ملانے کا کام کرتا ہے۔ کمپنی کا استدلال ہے کہ وہ ان جائیدادوں کی مالک یا آپریٹر نہیں ہے، اور بکنگ کے عمل کو قانون کی رو سے "غیر قانونی کاروبار” میں ملوث قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ مقدمہ بین الاقوامی قانون کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ عدالتوں کے لیے یہ طے کرنا مشکل رہا ہے کہ جب کوئی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کسی ایسی جائیداد کی بکنگ کرتا ہے جو سیاسی تنازع کا شکار ہو، تو اس پلیٹ فارم کی ذمہ داری کتنی بنتی ہے۔ اگر عدالت کا فیصلہ خاندانوں کے حق میں آتا ہے، تو عالمی ٹریول کمپنیوں کے لیے ایسے ممالک میں آپریشنز جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا جہاں ریاستی قبضے کی تاریخ موجود ہے۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کیس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ عدالت ایکسپیڈیا کے کمیشن کو ضبط شدہ جائیداد سے براہ راست حاصل ہونے والا منافع سمجھتی ہے یا نہیں۔ اگر جج اس نکتے کو تسلیم کر لیتے ہیں، تو یہ ٹریول انڈسٹری کے لیے ایک بڑی قانونی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔
فی الحال یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے، جہاں خاندان دہائیوں پر محیط نقصان کا ازالہ مانگ رہے ہیں، جبکہ ایکسپیڈیا ڈیجیٹل دور میں اپنی ذمہ داریوں کی حدود طے کروانے کے لیے لڑ رہا ہے۔ یہ تنازع اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ایک سادہ سا "بک ناؤ” بٹن بھی سرد جنگ کے پرانے زخموں کو تازہ کر سکتا ہے۔
