کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں شادی کی خوشیاں اس وقت سوگ میں بدل گئیں جب ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں دو کم سن لڑکے جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دولہا سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
واقعہ اتوار کی شب پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، بارات کے پہنچتے ہی ہوائی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے دوران چلنے والی گولی 10 سالہ عبدالرحمٰن اور 12 سالہ حذیفہ کو جا لگی۔ دونوں بچے موقع پر ہی شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گئے۔
ایس ایس پی ویسٹ نے پیر کی صبح گرفتاریوں کی تصدیق کی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے اسلحہ قبضے میں لے لیا ہے اور فرانزک ٹیمیں اس بات کا تعین کر رہی ہیں کہ مہلک گولی کس ہتھیار سے چلی۔
تفتیشی ٹیم کے ایک افسر نے بتایا کہ "ہم دولہا کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں کیونکہ اس کی موجودگی میں یہ سب ہوا۔ ہوائی فائرنگ کے خلاف قانون واضح ہے اور ہم اس کیس کو ایک مثال بنانا چاہتے ہیں۔”
کراچی میں ہوائی فائرنگ ایک پرانا اور جان لیوا رجحان ہے، جس پر بارہا پابندی کے باوجود واقعات تھم نہیں سکے۔ اگرچہ پولیس ایسے واقعات کے بعد مقدمات تو درج کر لیتی ہے، مگر بہت کم ملزمان کو سزا ملتی ہے۔ اکثر معاملات میں فریقین کے درمیان راضی نامہ ہو جاتا ہے اور کیس عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
مقتول بچوں کے لواحقین صدمے سے نڈھال ہیں۔ علاقے کے رہائشیوں نے تھانے کے باہر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی اجتماعات میں اسلحے کی نمائش کو ہر صورت روکا جائے۔
ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں۔ پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی اور اسلحہ ایکٹ کے تحت سخت ترین دفعات شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ شہر میں بڑھتے ہوئے اسلحہ کلچر پر قابو پایا جا سکے۔
