اسلام آباد — وفاق وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اتوار کے روز دارالحکومت میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے مالی سال 27-2026 کے لیے پیش کردہ وفاقی بجٹ کی تفصیلات جاری کیں، جسے انہوں نے ملک کو معاشی استحکام سے نکال کر پائیدار ترقی اور برآمدات پر مبنی معیشت کی راہ پر گامزن کرنے کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال بھی موجود تھے۔ وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ ملک میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے بنیادی میکرو اکنامک استحکام (زرِ مبادلہ کے ذخائر، مستحکم شرحِ سود اور پالیسیوں کا تسلسل) ناگزیر ہے۔
بجٹ کی سب سے اہم خصوصیت برآمداتی صنعتوں اور کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں کے نظام میں کی جانے والی بنیادی تبدیلیاں ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر، 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ کمانے والے کاروباروں پر عائد ‘سپر ٹیکس’ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی والی بڑی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا ہے۔ تمام رجسٹرڈ ایکسپورٹرز (برآمد کنندگان) کے لیے سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ‘ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم’ (EFS) کے بجٹ میں 70 ارب روپے کی اضافیسرسڈی تجویز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی (IT) سیکٹر، فری لانسرز اور ‘پاشا’ (PASHA) کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات کو 4.5 ارب ڈالرز کے ہدف تک پہنچانے کے لیے 0.25 فیصد فائنل ٹیکس رجیم (FTR) کو برقرار رکھا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اگلے تین سالوں کے لیے صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منتقلی کو منجمد کر دیا ہے۔ ان فنڈز کو ملک کی دفاعی ضروریات اور سیکیورٹی فورسز کے بجٹ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سرکاری اخراجات کم کرنے اور ‘رائٹ سائزنگ’ کے تحت وزیرِ اعظم نے بورڈ آف انویسٹمنٹ (BoI) اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو ضم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کی سہولت مل سکے۔
وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے ٹیکسوں کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والے تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دیا ہے۔ سالانہ 22 لاکھ روپے تک کمانے والے کم اور متوسط آمدنی والے ملازمین کے لیے ٹیکس سلیبس کو بالترتیب 5 فیصد اور 15 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد اور 13 فیصد کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہ میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جسے وزیرِ خزانہ نے ٹیکس چھوٹ اور افراطِ زر کے تناظر میں تسلی بخش قرار دیا۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ ٹیکس چوری روکنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے ایف بی آر کے نظام کو مکمل طور پر آٹومیشن اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ خوردہ فروشوں اور چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کروائی جا رہی ہے، جبکہ بی آئی ایس پی (BISP) کے تحت غریب ترین طبقے کی امداد جاری رہے گی۔
زرعی شعبے کے لیے فنانسنگ 15 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ چھوٹے کسانوں کے لیے بلا ضمانت قرضوں کے ساتھ ساتھ کٹائی کی مشینوں (کمبائنڈ ہارویسٹرز)، ٹریکٹرز اور سینٹری فیوگل پمپس کی درآمد پر کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو صفر کر دیا گیا ہے۔ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے چھوٹی الیکٹرک بائیکس اور ای گاڑیوں پر مراعات دی گئی ہیں جبکہ لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر پابندیاں سخت کی گئی ہیں۔
پریس کانفرنس کے آخر میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی (25 کروڑ) کو ملک کے لیے ایک بڑا اور سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبادی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بچوں میں غذائی قلت اور بچیوں کے اسکولوں سے باہر ہونے کی شرح خوفناک حد تک بڑھ جائے گی۔ اس اہم سماجی مسئلے سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں مانع حمل ادویات اور سینیٹری پیڈز پر عائد تمام ٹیکسز کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگلے این ایف سی (NFC) ایوارڈ کی تقسیم کے وقت آبادی کے عنصر پر نظرِ ثانی کی جائے گی۔
